ابتداء میں ہی اگر اس زہریلی کاشت کے خلاف کارروائی ہوگی تو یہ نیست و نابو ہوگی۔ مقامی لوگ
سرینگر///جنوبی کشمیر میں خشخاش اور بھانگ کی کاشت کی شروعات کی گئی ہے تاہم متعلقہ محکمہ اگر اس زہریلی کاشت کے خلاف ابھی سے مہم شروع کرتے تھے اس وباء کو پیدا ہونے سے پھلے ہی نیت و نابود کیا جاسکتا تھا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام میں اس وقت خشخاش اور بھانگ کی کاشت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔منشیات کی کاشت کرنے والے افراد نے خشخاش اور بھانگ کی کاشت شروع کردی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز ، پولیس اور محکمہ ریونیو ہر برس منشیات کی کاشت کو تباہ کرنے کے سلسلے میں کام کررہی ہے لیکن یہ مہم بھانگ تیار ہونے کے بعد شروع کی جاتی ہے تاہم اگر ابتداء میں ہی اس کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے تو منشیات پھل پھولنے سے پہلے ہی نیست و نابود ہوجائے گی۔ اس ضمن میں مقامی لوگوںنے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس منشیات کی کاشت کے خلاف ابتداء سے ہی کارراوئی کی جانی چاہئے تاکہ یہ زہر اْگے ہی نا۔ لوگوں نے کہا دوسری جانب کچھ ناعاقبت اندیش افراد اس زہریلی کاشت میں لگے ہوئے ہیں۔










