کانگریس کا موقف گزشتہ دو برسوں سے واضح ،پارٹی اپنے فیصلے پر قائم / طارق قرہ
سرینگر / این این بی // کانگریس جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگی جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جاتا کا اعلان کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ اس معاملے پر کانگریس کا موقف گزشتہ دو برسوں سے واضح ہے اور پارٹی اپنے فیصلے پر قائم ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے منگل کو واضح کیا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگی جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کانگریس کا موقف گزشتہ دو برسوں سے واضح ہے اور پارٹی اپنے فیصلے پر قائم ہے۔کابینہ میں توسیع کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق قرہ کہا کہ منگل کو کابینہ میں توسیع کی گئی اور جن اراکین کو وزیر منتخب کیا گیا، انہوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ تاہم، کانگریس نے اپنی سابقہ پالیسی کے مطابق حکومت کی کابینہ سے باہر رہنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔قرہ نے کہا کہ کانگریس گزشتہ دو برسوں سے مسلسل یہ واضح کرتی آ رہی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پارٹی کا موقف پہلے ہی کئی مرتبہ واضح کیا جا چکا ہے، اس لیے بار بار یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہیں کہ کانگریس کابینہ میں کیوں شامل نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے میں ہونے والی تاخیر کے باعث کانگریس نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں وزارتی عہدے قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی ایک اہم سیاسی اور آئینی مسئلہ ہے، جس پر واضح پیش رفت ضروری ہے۔طارق قرہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے طور پر برقرار رہے گا، کانگریس کسی بھی وزارتی عہدے کو قبول نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق، ریاستی درجہ بحال ہونے تک کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے پارٹی کے موقف میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے منگل کو کابینہ میں توسیع کی، تاہم کانگریس نے ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت میں شامل نہ ہونے کا اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔










