ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

جموں وکشمیر اِنتظامیہ کثیر جہتی نقطہ نظر کے ساتھ زرعی شعبے کوبحال کر رہی ہے

سری نگر//جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے زرعی اور اِس سے منسلک شعبے کی بحالی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں قرضوں کے فرق کو پُر کرنا ، تنوع ، زیادہ کثافت والے شجرکاری ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، مارکیٹ روابط اور توسیعی خدمات شامل ہیں۔نامور زرعی سائنسدانوں ، پالیسی سازوں ، ماہرین تعلیم اور کسانوں کے درمیان مسلسل غور و خوض کے نتیجے میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے میں تیز رفتار ترقی کے لئے مستقبل کاروڈ میپ تیا ر ہواہے۔ڈیری لائیو سٹاک ، پولٹری اور ماہی پروری کو اعلیٰ ترقی کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے اور حکومت کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کر رہی ہے۔حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں کسانوں کی زیادہ آمدنی کو یقینی بنانے کے تاریخی کام کو حاصل کرنے کے لئے ایک قابلِ عمل حکمت عملی اپنائی ہے۔جموںوکشمیر حکومت باغبانی کی طرف سے پیش کردہ غیر اِستعمال شدہ مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور معیاری اور برآمدات میں اِضافہ کرنے کے لئے پودے لگانے سے لے کر فصل کے بعد کے اِنتظام او رپروسسنگ سے لے کر مارکیٹنگ تک کے اِختتام تک رَسائی کو یقینی بنارہی ہے۔زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں میں تبدیلی صرف پیداوار کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خوراک کی حفاظت ، کسانوں کو بااختیار بنانے اورچھوٹے کاشت کارکنبوں کی خوشحالی کے بارے میں بھی ہے۔ حکومت ترقی کے فوائد کو کسانوں کے مالی تحفظ میں تبدیلی کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔جموںوکشمیر یوٹی حکومت زرعی شعبے کو اتنے ہی فوائد فراہم کرر ہی ہے جتنے مینو فیکچرنگ سیکٹر کے لوگوں کے لئے دستیاب ہیں جس میں قرض تک آسان رَسائی ، بنیادی ڈھانچہ ، کٹائی سے پہلے اور بعد کی سہولیات ، خطرات اور غیر یقینی صورتحال کا احاطہ کرنا اور کسانوں کے فائدے کے لئے مختلف اقدامات اور سکیمیں شامل ہیں۔یہ بات واضح ہے کہجموںوکشمیر کو زرعی آمدن کے اعتبار سے ملک کی پانچ ریاستوں اور یوٹیز میں اعلیٰ مقام حاصل ہیجس کی ماہانہ آمدنی 18,918 روپے فی کسان ہے ۔ زرعی پالیسی ، دیہی خوشحالی اور کسانوں کی آمدنی اور معیارِزندگی میں بہتری لانے کے لئے نامیاتی کاشت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔