Disclosure of frauds in the transfer of water power department

جل شکتی محکمہ میں تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف

دہائیوں سے پلوامہ میں تعینات افسر کا تبادلہ اور دوبارہ تعیناتی نے محکمے پر سوالیہ نشان لگا دیا

سرینگر//محکمہ جل شکتی کشمیر میں تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے جس دوران محکمے میں تعینات ایک جے ای کا تبادلے اور اس کی دوبارہ تعیناتی نے محکمے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں ادھر ملازمین نے بھی ایسے مجرمانہ اقدام کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کسی تحقیقاتی ایجنسی سے ایسے تبادلے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جل شکتی محکمے میں انجینئروں کے تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ نے حال ہی میں ایک جونیئر انجینئر کو سات ماہ تبادلے کے بعد ہی پلوامہ میں دوبارہ تعینات کردیا گیا ہے جس انجینئر کو پلوامہ میں تعینات کیا گیا اس کا تبادلہ رواں سال چار فروری کو ہوا تھا۔ملازمین کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس انجینئر کا تبادلہ صرف چند سالوں کے اندر متعدد مرتبہ پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں کرانا محکمہ جل شکتی پر سوالیہ نشان ہے۔ذرائع کے مطابق مزکورہ انجینر سال 2018 میں شوپیان میں تعینات تھا جہاں کہی بے ضابطگیوں کو لیکر ضلع ترقیاتی کمشنر نے انہیں کہی مہینوں تک معطل کردیا۔مزکورہ جل شکتی انجینئر پر الزامات کی بوچھاڑ لگاتے ہوئے ملازمین ذرائع کا کہنا تھا کہ اس پر دھاندلیوں کے کہی کیس بھی درج ہے اور اس سلسلے میں متعدد مرتبہ مزکورہ انجینئر کا تبادلہ بھی عمل میں لایا گیا۔ذرائع کے مطابق مزکورہ انجینئر کی نگرانی میں پلوامہ میں کروڑوں روپیوں کی سکیمیں،جن میں متری گام اور اٹھورہ سمیت کئی سکیمیں عمل میں لائی گئی تاہم یہ نصب درجن سکیمیں آج کل ناکارہ بن چکی ہے اور اس ناکامی کے سبب اس وقت عوام کو زبردست مشکلات بھی درپیش ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت محکمہ جل شکتی نے پلوامہ میں لوگوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کروڑوں روپیوں کی اسکیمیں دوبارہ متعارف کرائی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسی اسکیموں میں دھاندلیوں کے خواطر جل شکتی کا کروپٹ انجینئر کو تعینات کرنا محکمہ کے تبادلے اور تقریروں کی پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ذرائع نے محکمہ کے تبادلوں کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمے میں ہوئی تبادلوں کے دھاندلیوں کو لیکر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ تبادلوں اور تقریروں کو لیکر ملازمین کے تیئں صاف و شفاف انتظامیہ کو یقینی بنایا جاسکے