سری نگر//سپریم کورٹ آف اِنڈیا کے جج جسٹس سنجیو کھنہ نے سری نگر میں ہائی کورٹ کے احاطے میں دسویں بین الاقوامی یوگا ڈے ۔2024ء جس کا موضوع رواں سال کے لئے ’’ یوگا فار سیلف اینڈ سوسائٹی‘‘ ہے ، کی ایک تقریب کا اِفتتاح کیا۔اِسی طرح کا ایک پروگرام ہائی کورٹ کمپلیکس جموں میںمنعقد ہوا جس کی قیادت جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راہل بھارتی نے کی۔ تقریب میں چیف جسٹس این کوٹیشور سنگھ، جسٹس تاشی ربستن، جسٹس سنجیو کمار، جسٹس سنجے دھر، جسٹس محمد عامر خان ، رجسٹرار جنرل، چیف جسٹس کے پرنسپل سیکرٹری، رجسٹرار ویجی لنس، رجسٹرار رولز، ممبرسیکرٹری، جموں و کشمیر لیگل سروسز اتھارٹی، رجسٹرار آئی ٹی، رجسٹرار جوڈیشل سری نگر/جموں، سیکرٹری ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی، جوائنٹ رجسٹرار (جوڈیشل/ پروٹوکول) سری نگر/جموں اور ہائی کورٹ کے دونوں وِنگوں کی رجسٹری کے دیگر افسران کے علاوہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے عملے نے شرکت کی۔اِسی طرح کے پروگرام جموں و کشمیر اور لداخ یوٹیزکی تمام ماتحت عدالتوں میں منعقد کئے گئے جس میںشرکأ کی ایک بڑی تعداد نے یوگ انسٹرکٹروں کے ساتھ یوگ آسن کا مظاہرہ کیا جنہوں نے اِنسانی جسم اور دماغ کی اہمیت اور اثرات کو بھی بیان کیا۔جسٹس سنجیو کھنہ نے تمام شرکأ پر زور دیا کہ وہ اَپنی روزمرہ زندگی میں یوگا کو شامل کریں تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ رہنے اور خود کو تناؤ کی زندگی سے نجات دِلا سکیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یوگا کو زندگی کا ایک طریقہ بنانے سے عدالتی کاموں کی انجام دہی اور نہ صرف عدالتی افسران بلکہ تمام شراکت داروں کی کارکردگی اور اِفادیت میں اضافہ ہوگا۔جسٹس سنجیو کھنہ نے یوگا اِنسٹرکٹروںکے کردار کی ستائش کی جنہوں نے سیشن کے دوران شرکأ کو یوگ آسن کرنے کی تربیت دی۔










