جاوید ڈار نے ویٹرنری اِنفراسٹرکچر اور پروجیکٹ نگرانی کا جائزہ لیا

بروقت ٹینڈرنگ ، فنڈز کے مؤ ثر اِستعمال اور سی ایس ایس او ریوٹی سکیموں کی زمینی سطح پر عمل آوری پر زور

سری نگر//وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج ، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں کشمیر بھر میں ویٹرنری یونٹوں کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور اے پی ڈی کی مرکزی معاونت والی سکیموں (سی ایس ایس) اور یو ٹی سیکٹر سکیموں کی پیش رفت پر غورو خوض کیا گیا۔میٹنگ میں ڈائریکٹرفائنانس اے پی ڈی، ڈائریکٹر پلاننگ اے پی ڈی، ڈپٹی ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر سمیت محکمہ کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ ڈپٹی ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر میں اَفرادی قوت کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیرموصوف کو بتایا گیا کہ ویٹرنرینز اور پیرا ویٹرنرینز کی خالی اَسامیوں کو پُرکرنے کے لئے تمام ضروری فارملٹیز کو قائم کردہ رہنما خطوط کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید بتایا گیا کہ زیر اِلتوأ کاموں کے لئے ٹینڈرنگ کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔وزیر نے ویٹرنری ہیلتھ کیئر اِنفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کا عمل ایک ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے اورطریقہ ٔکار کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے اور مکمل شفافیت کو برقرار رکھا جائے۔اُنہوں نے مختلف ترقیاتی سکیموں کے تحت بجٹ مختص کرنے اور اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے جموں و کشمیر میں مرکزی معاونت والی اور یو ٹی سیکٹر سکیموں کے تحت حاصل کی گئی طبعی و مالی پیش رفت کی مکمل تفصیلات طلب کیں۔وزیر موصوف نے ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تمام جاری منصوبوںبالخصوص نبارڈ اور دیگر فلیگ شپ پروگراموں کے تحت عملائے جا رہے منصوبوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ زمینی سطح پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اچانک فیلڈ معائیے بھی کئے جائیں گے کہ ان منصوبوں کے فوائد مؤثر طریقے سے متعلقہ افراد تک پہنچ رہے ہیں۔جاوید ڈار نے مویشی پروری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فارموں کی جامع اَپ گریڈیشن اور تربیتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کو بہتر تکنیکی معلومات اور وسائل فراہم کئے جا سکیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اہدافی نتائج کے حصول کے لئے مختص فنڈز کا درست اور بروقت اِستعمال ناگزیر ہے اور اَفسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی مقررہ مدت پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ ترقیاتی اقدامات کے فوائد عملی طور پر کسان کمیونٹی تک پہنچ سکیں۔اِس سے قبل ڈائریکٹر فائنانس اے پی ڈِی نے ایک تفصیلی مالی جائزہ پیش کیا جس میں مالی سال 2025-26 اور 2026-27 کے دوران مختلف سکیموں کے تحت منظور شدہ فنڈز، جاری شدہ رقومات اور اخراجات کی تفصیلات بیان کی گئیں۔