جاوید احمد رانا نے ’’ ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت ہدف حاصل کرنے میں شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا

جاوید احمد رانا نے ’’ ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت ہدف حاصل کرنے میں شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا

جموں//جموں و کشمیر نے ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت 150 لاکھ پودے لگانے کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہے۔وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے اس کامیابی کو سراہتے ہوئے اس کا سہرا سرکاری اِداروں، دیہی سطح کے اِداروں، مقامی لوگوں اور دیگر شراکت داروں کی اِجتماعی کوششوں کو دِیا۔اُنہوں نے کہا، ’’اِس مہم کا مقصد زمین کی بگڑتی ہوئی حالت کو روکنا اور اسے بحال کرنا ہے تاکہ ایک دیرپا مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم دیرپا ترقی کے مقصد سے مطابقت رکھتی ہے۔وزیر موصوف نے محکمہ جنگلات کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شجرکاری نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لئے اہم ہے بلکہ اس سے عوام میں شجرکاری اور سبزے کی اہمیت کے بارے میں بیداری بھی پیدا ہوتی ہے۔مہم’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ملک بھر میں اس جذبے کے ساتھ شروع کی گئی تھی کہ لوگ اَپنی ماں سے محبت، احترام اور عزت کے طور پر ایک درخت لگائیں اور درختوں و زمین کے تحفظ کا عہد کریں۔محکمہ جنگلات نے جموںوکشمیر میں 1,50,18,803 پودے لگانے کی مہم کی قیادت کی اور اس مہم میں طلبأ، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، سیکورٹی فورسز، مختلف سرکاری محکموں اوراداروں، شہریوں اور نیچرسے محبت کرنے والوں کو شامل کیا گیا۔اِس اَقدام کے تحت محکمہ جنگلات اور اس کی وِنگوں نے 91 لاکھ پودے جنگلاتی اور غیر جنگلاتی زمینوں پر لگائے اور یونین ٹیریٹری کے مختلف مقاما ت پر پودے لگانے کے لئے 59 لاکھ پودے مختلف شراکت داروںمیں تقسیم کئے گئے ۔ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ نے کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ پودے لگائے گئے اور عیدالفطر کے موقعہ پر تقریباً دو لاکھ پودے تقسیم کئے گئے۔
جاویداحمد رانا نے ہدف حاصل کرنے میں مختلف طبقات کی شراکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر شراکت دار نے اِس اقدام میں خاطر خواہ تعاون کیا ہے جس سے دیرپایت، گرین کور کو بڑھانے اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے کے لئے اِجتماعی عزم کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگوں نے اس مہم کو کتنے جوش و خروش سے اَپنایاجس سے آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کے لئے ماحولیاتی قیادت کی اہمیت کو تقویت ملی۔ ہم مقامی لوگوں کی بھرپور شرکت کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں کر سکتے تھے۔‘‘محکمہ جنگلات نے مہم کے دوران مقامی لوگوں کو شجرکاری کی اہمیت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ہریالی کو بڑھانے میں درخت لگانے کی اہمیت کے بارے میں بیداری پید ا کی۔