سری نگر//حکومت نے بدھ کے روز کرائم برانچ کے ایک ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ آف پولیس کو 11 نومبر سے معطل کر دیا ہے، جسے انسدادورپشن بیورو نے جائیداد کے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ایک شخص سے مبینہ طور پر 50ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے پکڑا تھا۔جے کے این ایس کے مطابق فائنانشل کمشنر ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ رج کمار گوئل کی جانب سے 30نومبر2022کوجاری گورنمنٹ آرڈر نمبر432-Homeآف2022میں کیاگیاہے کہ کرائم برانچ کے داغدار ڈی ایس پی نے اس مہینے کے شروع میں اس بناء پر ایک شخص سے ہزاروں روپے بطور رشوت کی کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ دے گا۔حکومت کے جاری کردہ ایک آرڈر میں کہاگیاہے کہ جموں و کشمیر (سول سروسز کی درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) رولز، 1956 کے قاعدہ 31(2) کے مطابق،ملزم وریندر سنگھ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرائم برانچ جموں، کو معطلی کے تحت رکھا گیا سمجھا جائے گا۔اورموصوف کی معطلی11نومبر2022سے نافذ العمل ہے، یعنی جب پولیس تھانہ اینٹی کرپشن بیورو، جموں میں اسکے خلاف ، بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ1988 کیسیکشن 7 کے تحت کیس زیر ایف آئی آرنمبر 15/2022درج ہواتھا اوراس افسر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی ۔انسدادکورپشن بیورو (ACB) نے بتایاکہ کرائم برانچ جموںکے افسر نے رشوت کے طور پر2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اے سی بی نے کہاکہ وہ11 نومبر2022 کو تریکوٹہ نگر کے باہو پلازہ علاقے سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا جہاں اس نے شکایت کنندہ سے اپنی سرکاری کار میں رشوت لی تھی۔سرکاری آرڈرکے آخر میں کہاگیاہے کہ معطلی کے دوران کرائم برانچ جموں کے مذکورہ افسر پولیس ہیڈکوارٹر جے اینڈ کے ،کیساتھ اٹیچ رہیں گے۔










