بھارت میں ریلوے پُل گرنے سے 17 افراد ہلاک

بھارت کی مشرقی ریاست میزورام میں زیر تعمیر ریلوے پُل گرنے سے اس پر کام کرنے والے کم از کم 17 مزدور ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق حکام نے بتایا کہ دریا پر زیر تعمیر ریلوے پل گرنے سے ہلاک افراد کے علاوہ دیگر لاپتا بھی ہیں۔میزورام کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو فوٹیج میں لوہے کا فریم دکھایا گیا جو بلند و بالا پلرز سے نیچے وادی میں جاگرا۔وزیر اعلیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس، جسے پہلے ٹوئٹر کہا جاتا تھا، پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ آئیزول کے قریب سائرنگ میں زیر تعمیر ریلوے اوور برج گر نے سے کم از کم 17 مزدور ہلاک ہوگئے۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے پولیس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 17 لاشیں نکال لی گئیں اور کئی دیگر مزدور لاپتا ہیں، لوگوں کے لاپتا ہونے سے متعلق اطلاعات کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں تھی۔ایک اور بھارتی اخبار دی ہندو نے حکومتی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پُل گرنے کے وقت تقریباً 40 مزدور اس مقام پر موجود تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ان کے دفتر کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ نریندر مودی نےاس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا اور ہلاک لوگوں سے تعزیت کی جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکومت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو تقریباً 2 ہزار 400 ڈالر ادا کرے گی، میزورام بھارت کے انتہائی مشرق میں میانمار کی سرحد سے متصل خطہ ہے۔ریاستی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے آئے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سانحے سے بہت غمزدہ اور متاثر ہوئے۔بھارت میں بڑے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے دوران اس طرح کے حادثات عام طور پر پیش آتے رہتے ہیں۔رواں ماہ مغربی بھارت میں کم از کم 20 مزدور اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب معاشی حب ممبئی کے باہر زیر تعمیر ایکسپریس وے کے اوپر ایک کرین گر گئی تھی۔گزشتہ سال اکتوبر میں گجرات میں مرمت کے فوری بعد پل گرنے سے 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔2016 میں کولکتہ کی سڑک پر فلائی اوور گرنے سے کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔