بھارت سرحد پار تخریب کاری کے تئیں قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند۔ جے شنکر

سرینگر//وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت، سرحد پار کی دہشت گردی کے تئیں قطعی برداشت نہ کرنے کی اپنی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور بھارت نے یوکرین کے بارے میں پرامن مذاکرات اور سفارت کاری کے اپنے موقف کو دہرایا۔””ہم اپنے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردی سیاسی نہیں ہے۔ اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، اس کے نتائج کو سیاسی نہ بنایا جائے۔”اگر آپ اقوام متحدہ میں جائیں اور کہیں کہ کیا ہر کوئی دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے، تو ہر کوئی ہاں کہے گا۔ اس لیے ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں، اگر آپ کا موقف یہی ہے، تو آپ کی پالیسیاں اور آپ کے اقدامات اس پر عمل کیوں نہیں کرتے،‘‘ انہوں نے کہا۔جے شنکر نے ہفتہ کو یو این جی اے میں اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی بھی بیان بازی، خواہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو خون کے دھبے چھپا نہیں سکتی اور اقوام متحدہ میں اعلان کردہ دہشت گردوں کا دفاع کرنے والی قومیں نہ تو اپنے مفادات اور نہ ہی اپنی ساکھ کو آگے بڑھاتی ہیں، یہ چین اور پاکستان کا واضح حوالہ ہے۔”دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کا خمیازہ بھگتنے کے بعد، ہندوستان ‘زیرو ٹالرنس’ کے نقطہ نظر کی مضبوطی سے وکالت کرتا ہے۔ ہمارے خیال میں دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کا کوئی جواز نہیں ہے، چاہے وہ محرک کچھ بھی ہو۔ اور کوئی بھی بیان بازی، خواہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو خون کے داغ کو کبھی چھپا نہیں سکتا، سی این آئی کے مطابق وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت سرحدپار دہشت گردی کے بارے میں قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر مضبوطی سے قائم ہے۔کلرات نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اپنے خطاب کیدوران وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے سرحد پار کی دہشت گردی کا شکارہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے اقوام متحدہ میں مفروردہشت گردوں کا دفاع کیاہے انہوں نے نہ تو اپنے مفادات کو آگے بڑھایا ہے اور نہ ہیاپنی شہرت کے سلسلے میں پیشرفت کی ہے۔یوکرین کے بارے میں بھارت نے پرامن مذاکرات اور سفارتکاری کے اپنے موقف کو دہرایا اور اسے یوکرین تنازعہ کے حل کیلئے اہم قرار دیا۔ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے شنگھائی تعاون تنظیم چوٹی کانفرنسمیں صدرولادمیرپوتن کے ساتھ میٹنگ میں اس بات پر زور دیاتھا کہ بھارت پرامن حل میںیقین رکھتا ہے اور اسے جاری لڑائی کے بارے میں تشویش ہے۔ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ بھارت کو وزیراعظم نریندرمودیکی قیادت میں پورا اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے 25 برسوں میں بھارت کوایک ترقی یافتہ ملک بنانے کاعزم کررکھا ہے۔وزیرخارجہ نے گزشتہ 75 سال میں بھارت کی معاشی ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ نوآبادیاتی نظام نے بھارت کو ایک سب سے غریب ملک میں تبدیل کردیا تھا۔ بھارت دنیا میں پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔وزیرخارجہ نے بھارت کی کووڈ ویکسن پہل کے بارے میں بھیبات کی۔ جس نے ایک سو سے زیادہ ملکوں کی مدد کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے ترقیاتینشانے پورے کرلئے ہیں۔ بھارت، ایشیا، افریقہ اورلاطینی امریکہ میں اپنے بھائیوںاور بہنوں کو شراکت داری کی پیشکش کرتا ہے۔ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ آب وہوا میں تبدیلی اور انصافکی اپنی کوشش کے سلسلے میں بھارت نے بین الاقوامی شمسی توانائی ایک سورج،ایک دنیا،ایک گرڈ پہل اور آفات کے لچکدار بنیادی ڈھانچے کے تئیں اتحاد کے بارے میں اپنیشراکت داروں کے ساتھ کام کیا ہے۔وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ اور اس کے چارٹر پر بھارت کیاعتماد کو دہرایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے شراکت داروں کومستحکم کرنے کے تئیں پوری طرح عہد بستہ ہے تاکہ اس کرہ ? ارض کیلئے ایک روشنمستقبل کو یقینی بنایا جاسکے۔