نیتی آیوگ کا جائزہ اجلاس، سیاحت، توانائی، تعلیم اور پانی کے شعبوں پر بھی تفصیلی غور
سرینگر//یو این ایس / نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر اشوک کے۔ لہڑی نے ہفتہ کے روز مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں خطے کی معاشی ترقی کی ترجیحات، جاری منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے، رابطہ سہولیات، تعلیم، سیاحت، توانائی، پانی اور روزگار سے متعلق اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں لداخ کی مالی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیف سیکریٹری آشیش کندرا نے سال 2020-21 سے بجٹ میں مختص رقوم، آمدنی میں اضافے، اخراجات کے رجحان، ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی، جی ایس ٹی وصولی اور بجلی کے شعبے کی مالی صورتحال سے متعلق تفصیلی پیشکش دی۔اجلاس میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے علاوہ مختلف شعبوں کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار، مجموعی ریاستی قدرِ افزود اور روزگار کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔انفراسٹرکچر اور رابطہ سہولیات اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ حکام نے بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری، بجلی کی ترسیل، سڑک رابطوں، نئے گھریلو ہوائی اڈے کے ٹرمینل اور فور جی خدمات سے متعلق جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔سیکریٹری بجلی ہمانشو گپتا نے دور دراز علاقوں کو بجلی اور دیگر سہولیات سے جوڑنے کی کوششوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے لداخ میں شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔سیاحت کو لداخ کی معاشی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے اجلاس میں فلکیاتی سیاحت، سرمائی سیاحت اور بدھ مت و ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ سیاحت کے شعبے کو مزید متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ بہتر رابطہ سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔مقامی مصنوعات، جن میں سی بَک تھورن، خوبانی اور پشمینہ شامل ہیں، کے فروغ پر بھی غور کیا گیا۔ ان مصنوعات کے لیے جدید پروسیسنگ مراکز، قدر میں اضافے، بہتر برانڈنگ اور وسیع تر منڈیوں تک رسائی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ڈاکٹر لہڑی نے پشمینہ کی مکمل پیداوار اور فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے روایتی ہاتھ سے کاتنے اور دستکاری کے ہنر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے مناسب استعمال کی وکالت کی۔تعلیم کے شعبے میں سرکاری و نجی اسکولوں، طلبہ کے داخلوں، اساتذہ کی دستیابی، ہاسٹل سہولیات اور دیگر مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں لداخ کے سی بی ایس ای امتحانات کے نتائج میں بہتری کا بھی نوٹس لیا گیا۔ڈاکٹر لہڑی نے اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے رجحان اور ہاسٹل سے متعلق مسائل حل کرنے کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم، بنیادی خواندگی و عددی صلاحیتوں اور ہنرمندی کی تربیت پر زیادہ توجہ دینے کی ہدایت دی، خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے لیے۔پانی کے تحفظ کو بھی بنیادی ترجیح قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر لہڑی نے پینے کے صاف پانی کی قابل اعتماد فراہمی اور جل جیون مشن پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ حکام نے بتایا کہ لداخ میں جل جیون مشن کے تحت 99.5 فیصد کوریج حاصل کی جا چکی ہے۔اجلاس میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور خواتین و نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے پر بھی غور کیا گیا۔روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے مویشی پالن، بھیڑ پالنے، پولٹری، ہیچری اور دیگر مقامی شعبوں میں قابل عمل کاروباری ادارے قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ حکام نے جدید سہولیات، منڈیوں سے بہتر روابط، پائیدار کاروباری ماڈل اور مقامی مصنوعات میں قدر بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی۔چیف سیکریٹری آشیش کندرا نے لداخ کے نوجوان کاروباری افراد کی تربیت اور رہنمائی کے لیے نیتی آیوگ سے تعاون طلب کیا۔ڈاکٹر لہڑی نے کہا کہ نیتی آیوگ اٹل انوویشن مشن سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے لداخ میں کاروباری اور اختراعی ماحول کو مضبوط بنانے میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے امید افزا کاروباری خیالات کا ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کرنے اور لداخ کے نوجوان کاروباری افراد کو ملک کے دیگر حصوں کے تجربہ کار رہنماؤں اور ماہرین سے جوڑنے کی تجویز بھی پیش کی۔اجلاس میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں لداخ کے لیے تعاون مضبوط بنانے اور اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے واضح منصوبہ? عمل مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا، جس میں قابل پیمائش اہداف اور مراحل شامل ہوں۔ڈاکٹر لہڑی نے کہا کہ لداخ کی ترقی کی حکمت عملی خطے کے قدرتی وسائل، ثقافتی ورثے، انسانی وسائل اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیتوں پر مبنی ہونی چاہیے، تاہم اس دوران ماحولیاتی پائیداری اور لوگوں کے لیے مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔اجلاس میں چیف سیکریٹری آشیش کندرا کے علاوہ منصوبہ بندی، خزانہ، اسکولی تعلیم، تعمیرات عامہ، قانون، مویشی پالن، صحت، خوراک و شہری رسد اور سیاحت کے محکموں کے اعلیٰ افسران اور نیتی آیوگ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔










