شریا گپتا ایشین گیمز میں شرکت کرنے والی جموں و کشمیر کی پہلی خاتون فینسر بن گئیں
سرینگر/ /یو این ایس/ آٹھ سال کی عمر میں والدین نے کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے مقصد سے اسے جموں کے واحد کثیر المقاصد مولانا آزاد اسٹیڈیم لے جانا شروع کیا تھا، لیکن اس وقت کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ ننھی بچی ایک دن کھیلوں کے میدان میں بڑی کامیابی حاصل کرکے اپنے والدین اور جموں و کشمیر کا نام روشن کرے گی۔یہ کہانی ہے جموں کی ممتاز فینسر شریا گپتا کی، جنہوں نے حال ہی میں جموں و کشمیر سے ایشین گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی خاتون فینسنگ کھلاڑی بن کر ایک اہم اعزاز حاصل کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے دو فینسر، وشال تھاپر اور شریا گپتا، 2026 ایشین گیمز کے لیے کوالیفائی کرچکے ہیں۔ ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر 2026 تک جاپان کے ایچی پریفیکچر اور ناگویا شہر میں منعقد ہوں گے۔آرکیٹیکٹ سنجے گپتا اور گھریلو خاتون رشمی مہاجن کی صاحبزادی شریا نے کم عمری میں تائیکوانڈو سے اپنے کھیلوں کے سفر کا آغاز کیا تھا، تاہم اپنے بڑے بھائی سے متاثر ہوکر، جو ابتدا میں فینسنگ سے وابستہ تھے، انہوں نے فینسنگ کو اپنا کھیل بنا لیا۔ اس کے بعد 13 برس کی مسلسل محنت، تربیت اور جدوجہد نے بالآخر انہیں ایشین گیمز کے پلیٹ فارم تک پہنچا دیا۔شریا گپتا کا کہنا ہے کہ کامیابی کی کنجی مستقل مزاجی اور سخت محنت کا امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ فینسنگ کے 13 سالہ سفر نے انہیں بہت تجربہ دیا اور مختلف مشکلات اور چیلنجز کے باوجود انہوں نے کھیل کے لیے خود کو وقف رکھا، جس کا مقصد ملک اور اپنے والدین کو فخر کا موقع فراہم کرنا تھا۔شریا کی خواہش ہے کہ وہ بھارتی فینسر سی اے بھوانی دیوی کے نقش قدم پر چلیں۔ بھوانی دیوی 2020 ٹوکیو اولمپکس میں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی بھارتی فینسر بنی تھیں۔شریا نے کہا کہ بھوانی دیوی ان کی تحریک ہیں اور ان کا خواب اولمپکس میں ہندوستان کی نمائندگی کرکے ملک کے لیے تمغہ جیتنا ہے۔اپنے طویل فینسنگ سفر کو یاد کرتے ہوئے شریا نے کہا کہ ایشین گیمز کے لیے کوالیفائی کرنا ایک انتہائی خوشی کا احساس ہے اور اب ان کی تمام توجہ تمغہ حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔شریا نے 2022 میں گجرات کی وجی بھارت فاؤنڈیشن کے فینسنگ ہائی پرفارمنس پروگرام میں شمولیت اختیار کی، جہاں عالمی معیار کے کوچز کی نگرانی میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سخت محنت ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 13 سالہ سفر کے دوران پیشہ ور کوچز کی نگرانی میں انہوں نے تکنیک، ذہنی مضبوطی، انجری سے نمٹنے اور متوازن غذا پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے بقول ایشین گیمز کے لیے انتخاب آسان نہیں تھا کیونکہ اس کے لیے عالمی درجہ بندی میں اپنی جگہ برقرار رکھنا ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ان کی سب سے بڑی توجہ اپنی درجہ بندی برقرار رکھنے پر رہی تاکہ وہ اس باوقار مقابلے کے لیے کوالیفائی کرسکیں اور بالآخر ان کا خواب پورا ہوگیا۔شریا نے ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومت ہند اور فینسنگ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فینسنگ اب ہندوستانیوں کے لیے کوئی اجنبی کھیل نہیں رہا۔ رواں سال جون میں ہندوستان کی جانب سے 26ویں ایشین سینئر فینسنگ چیمپئن شپ کی میزبانی نے بھی ملک میں اس کھیل کے بارے میں سوچ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کھیلوں کے شعبے، خصوصاً فینسنگ، میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی، کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات میسر ہوئی ہیں، مہنگے اور جدید آلات دستیاب ہوئے ہیں جبکہ کوچز اور ٹرینرز بھی پیشہ ورانہ انداز میں کھلاڑیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔شریا کو امید ہے کہ 2030 میں گجرات کے احمد آباد میں ہونے والی دولت مشترکہ کھیلوں اور 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے ہندوستان کی کوششیں ملک کے کھیلوں کے شعبے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ کھیلو انڈیا، ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم، اسمتا لیگ اور 2026-27 کے لیے کھیلوں کے بجٹ میں اضافے جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت کھیلوں کو فروغ دینے، باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور 2036 تک ہندوستان کو ایک عالمی کھیلوں کا مرکز بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔شریا نفسیات میں پیشہ ورانہ ڈگری بھی حاصل کررہی ہیں اور مستقبل میں ذہنی مضبوطی کی ماہر بننا چاہتی ہیں۔ ان کا مقصد کھلاڑیوں کو مقابلوں کے دوران پیدا ہونے والے خوف، دباؤ اور بے چینی پر قابو پانے اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے میں مدد کرنا ہے۔شریا نے بتایا کہ اپنے آرکیٹیکٹ والد کی طرح وہ بھی انجینئر بننا چاہتی تھیں، لیکن قسمت نے ان کے لیے کچھ اور طے کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ وہ انجینئر نہیں بن سکیں، بلکہ وہ اپنی موجودہ کامیابی سے خوش اور مطمئن ہیں۔تاہم شریا کے لیے ایشین گیمز آخری منزل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل ہدف ابھی حاصل نہیں ہوا، اولمپکس ان کا اگلا بڑا مقصد ہے اور ملک کے لیے تمغہ جیتنا ان کا سب سے بڑا خواب ہے، جس کے لیے وہ مسلسل سخت محنت کررہی ہیں۔










