پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی کا انتظار کرنے کے بجائے سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کی
سرینگر// یو این ایس / چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا ہے کہ ہندوستانی عدلیہ نے ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ جیسے نئے فراڈ کے طریقوں کے خلاف فعال انداز میں کارروائی کی ہے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی کا انتظار نہیں کیا۔لندن میں منعقدہ 43ویں بین الاقوامی سمپوزیم برائے اقتصادی جرائم سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کے فراڈ کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ اس فراڈ میں جعلساز ویڈیو کالز کے ذریعے خود کو پولیس افسر، عدالتی عہدیدار یا سرکاری افسر ظاہر کرکے شہریوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے اس معاملے میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کو مسئلے کی شدت اور پھیلاؤ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے اور ایسے جرائم کے لیے ایک الگ جرم مقرر کرنے اور نقصان کی نوعیت کے مطابق مناسب سزا تجویز کرنے کی بات بھی کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ ہندوستانی عدلیہ نئے نوعیت کے فراڈ کے خلاف فعال انداز میں ردعمل دیتی ہے اور ہر معاملے میں پارلیمنٹ کی جانب سے قانون بنانے کا انتظار نہیں کرتی۔جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہندوستان میں اقتصادی جرائم سے نمٹنے کے موجودہ نظام کو کسی ایک قانون تک محدود کرکے نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ کئی دہائیوں کے دوران قانون سازی، ادارہ جاتی نظام اور عدالتی اصولوں پر مشتمل ایک جامع ڈھانچے کی شکل میں تیار ہوا ہے، جس میں ہر سطح کو الگ ذمہ داری دی گئی ہے۔انہوں نے انسداد منی لانڈرنگ قانون 2002 اور مفرور اقتصادی مجرمین قانون 2018 کا بھی حوالہ دیا۔ تاہم چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ نظام مکمل طور پر بے عیب نہیں ہیں اور متعدد افراد نے تحقیقاتی اداروں کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ قانون کے مبینہ غلط استعمال کی شکایات بھی کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں بغیر واضح وجوہات بتائے گرفتاری اور دستیاب حقائق سے زیادہ مدت تک حراست میں رکھنے کے الزامات سامنے آئے، تاہم ایسے معاملات میں عدلیہ نے مداخلت کرکے صورتحال کی اصلاح کی۔چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت ملزم کو گرفتاری کی وجوہات صرف زبانی طور پر بتانا کافی نہیں بلکہ انہیں تحریری طور پر فراہم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے اروند کیجریوال بمقابلہ مرکزی تحقیقاتی بیورو کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گرفتاری کو قانونی قرار دینے کے باوجود ضمانت منظور کی، کیونکہ مقدمے کی سماعت سے قبل طویل حراست کو کسی دوسرے طریقے سے سزا میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ قانونی اور تکنیکی تبدیلیوں کے باوجود کئی دہائیوں سے ایک اصول مستقل رہا ہے کہ قانونی طریقہ? کار، تناسب اور بے گناہی کا مفروضہ عدالتی نظام کے بنیادی رہنما اصول ہونے چاہئیں۔دیوالیہ پن اور قرض خواہی سے متعلق قانون 2016 کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون فوجداری کارروائی کے ساتھ ساتھ چل سکتا ہے اور ہندوستانی نظامِ انصاف میں ایسے معاملات میں بھی متوازی شہری وصولی کی اجازت دینے کا رجحان بڑھا ہے جہاں فوجداری مقدمے کی کارروائی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدے، اپنی خامیوں کے باوجود، غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اثاثوں کو واپس لانے میں اکثر حوالگی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر منی لانڈرنگ سے متعلق عالمی اندازے کسی حد تک بھی درست ہیں تو دنیا ایک سال میں اتنی رقم کو غیر قانونی طور پر سفید کرتی ہے کہ اس رقم سے دنیا کے تقریباً 8 ارب افراد میں سے ہر ایک کے لیے ایک معمولی لیپ ٹاپ خریدا جاسکتا ہے اور پھر بھی کچھ رقم باقی رہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وسیع غیر قانونی دولت میں سے بہترین اندازے کے مطابق بھی سو میں سے ایک سے کم حصہ ہی واپس حاصل کیا جاتا ہے۔جسٹس سوریہ کانت نے قدیم ہندوستانی مفکر اور ماہرِ حکمرانی کوٹلیہ کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے دوسری صدی قبل مسیح میں اپنی معروف تصنیف ’ارتھ شاستر‘ میں سرکاری خزانے سے رقم نکالنے کے مختلف طریقوں کا ذکر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کوٹلیہ کا ایک قول آج بھی مالیاتی نگرانی سے وابستہ ماہرین کے لیے اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا صدیوں پہلے تھا، جس میں سرکاری آمدنی سنبھالنے والے اہلکار کے لیے اس آمدنی میں سے کچھ نہ لینے کو شہد یا زہر کو زبان کی نوک پر رکھ کر اس کا ذائقہ محسوس نہ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ غیر قانونی دولت اور اقتصادی جرائم کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ ان قومی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام نہیں کرتے جو عام طور پر قانونی نظام کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی جرائم اور فراڈ کے خلاف عالمی سطح پر چوکسی، باہمی تعاون اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔اختتامی کلمات میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس بین الاقوامی سمپوزیم کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جائے گا کہ اس ہفتے مسئلے کو کتنی خوبصورتی سے بیان کیا گیا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ شرکا اپنے اپنے ممالک اور نظامِ قانون میں واپس جاکر اس مسئلے کے خاتمے کے لیے کتنی سنجیدگی اور محنت سے اقدامات کرتے ہیں۔










