عدالت نے ڈپٹی کمشنر سرینگر کو حکمنانے پر فی الفو ر عمل کرنے کی ہدایت دی
سرینگر///بابا دھرم داس مندر بربرشاہ سرینگر میں مندر اراضی پر غیر قانونی قبضہ کو ہٹانے کے معاملے میں عدالت عالیہ نے ضلع مجسٹریٹ سرینگر کو ہدایت دی ہے کہ آرڈر پر عمل درآمد کرکے اراضی کی جانچ ریونیو ریکارڈ کے مطابق کریں اور ریونیو کے اصل ریکارڈ کے تحت اراضی سے غیر قانونی قبضہ کو چھڑانے کیلئے اقدامات اْٹھائیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سادھو سماج کے مندر بجرنگ دیو باباد دھرم داس مندر بربرشاہ سرینگر مندر کے مہنت شتر گن داس تھے اور اس کے بعد ان کے چیلہ کینکر داس مہنت مقرر ہوئے جو کہ ریونیو ریکارڈ میں موجود ہے۔مہنت کینکر داس 1996میں سورگبھاس ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی کو مندر کا سیوک نامزد نہیں کیا تھا۔جبکہ سمیتی نے ڈاکٹر جہ رام اور گوپال داس کو الگ الگ وقت میں مہنت مقرر کیا تھا پھر کچھ وجوہات کی وجہ ان دونوں کو مہنت کی ذمہ داریوں سے الگ کیا۔مہنت کی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر مقدمات دائر کر دیا۔جنکو عدالت نے خارج کرکے مہنت رام جیون داس کو کیر ٹیکر بنایا جنہوں ںنے مندر کی اراضی کو غیر قانونی قبضے کو روکنے کے لئے بابادھرم داس رام جیون داس ٹرسٹ قائم کیا۔مہنت رام جیون کے سورگبھاس ہونے کے بعد مہنت سبھاش شاہ کو ٹرسٹ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔اسی دوران ڈاکٹر جے رام داس نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کینکر داس کی جانب سے نامزد کردہ مہتمم ہے تاہم ٹرسٹ اور جے رام داس کے اس دعویٰ کوعدالت نے 2014 میں خارج کرکے صوبائی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ بابادھرم داس رام جیون داس ٹرسٹ کو مندر کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری تب سونپ دی جائے جب تک مندر کے کیس عدالت میں زیر سماعت ہیں عدالت کے حکم نامے پر عمل کرکے۔ اْس صوبائی کمشنر (کشمیر) نے 17.11.2022 کو ضلع مجسٹریٹ، سری نگر کو ہدایت کرکے حکم نامے کو نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔جس پر ضلع مجسٹریٹ نے حکم پر عمل کرتے ہوئے زیر نمبر DMS/RD-525-11/Mig/1169-73 مورخہ 22.12.2017 ایک آڈر جاری کرکے پولیس اور تحصیل انتظامیہ کو اس آڈر پر عمل کرنے کے ہدایات جاری کر دی۔ پریم جئے مشرا نے اس آڈر کے خلاف عدالت عالیہ میں کیس زیر نمبر OWP25/18 دائر کی تھی جو عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جموں کشمیر کی عدالت عالیہ نے مورخہ 13.08.2024اس کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔جس کی کاپی نیوز ایجنسی کے پاس موجود ہے۔فیصلے کے مطابق عرضی گزار کی طرف سے پیش ہونے سینئر وکیل ظفر قریشی نے تسلیم کیا کہ درخواست گزار مندر کی املاک کی انتظامیہ میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ اس طرح درخواست گزار نے اپنی درخواست کو صرف مندر میں پوجا کرنے کے اپنے حق تک محدود کر دیا ہے۔معزز عدالت نے اس معاملے کو 13.08.2024 کو نمٹا دیا ہے جس میں ڈی سی سرینگر 22.12.2017 کے حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا ساتھ ہی ڈی سی سری نگر کو ہدایات دی گئی کہ وہ مندر کے اراضی پر غیر قانونی قبضے کو ہٹاکر مندر کو زمین کی پوزیشن کو بحال کرے۔










