سرینگر ملک کا پہلا ضلع ہے جس نے سومیتوا کے تحت صد فیصد رسائی حاصل کی ہے
سرینگر / /دیہاتوں اور زمین کے مالکان کو بااختیار بنانے کے مقصد سے جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں سوامیتوا اسکیم کے تحت پراپرٹی کارڈ کا اجراء زور و شور سے جاری ہے ۔ سوامیتوا زمینداروں کو ان کی جائیدادوں کے ریونیو ریکارڈ کے حوالے سے بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی دے رہا ہے جس سے انسانی انٹر فیس پر انحصار ختم ہو رہا ہے ۔ سوامیتوا قانونی تقدس کے ساتھ ایک پراپرٹی کارڈ کی طرح ہے ، ایک مستند ذریعہ جو ملکیت /قبضے کے ریکارڈ کا عکاس ہے ۔ یونین ٹیر ٹری کی لمبائی اور چوڑائی پر محیط اس اسکیم میں سروے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ، ڈیٹا نکالنا اور عوامی استعمال کیلئے ریکارڈ کی حتمی ثالیف شامل ہے ۔ یہ لینڈ ریکارڈز میں حکومت ہند کی اصلاحات کے تازہ ترین اقدامات ہیں ۔ ٹیکنالوجی پر مبنی اسکیم زمین کے مالکان ، خاص طور پر آباد دیہہ میں رہنے والوں تک فوری اور آسان رسائی کے لحاظ سے دیہی منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہے اور اس لئے یہ عوام دوست ، شفاف ، بدعنوانی سے پاک حکمرانی کی طرف ایک اور قدم ہے جیسا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سرینگر ضلع ملک کا پہلا ضلع بن گیا ہے جس نے گاؤں آبادی کے سروے کے تحت صد فیصد رسائی حاصل کی ہے اور دیہی علاقوں میں بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ نقشہ سازی ( سوامیتوا ) یوجنا کی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے اس پیش رفت پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر ضلع ملک کا پہلا ضلع بن گیا ہے جس نے زمینداروں میں صد فیصد پراپرٹی کارڈ بنانے /تقسیم کئے ہیں ۔ سوامیتوا پنچائتی راج کی وزارت کی ایک سنٹرل اسکیم ہے ، جسے(2020-21 ) میں9 ریاستوں میں اسکیم کے پائلٹ مرحلے کی کامیابی کے بعد 24 اپریل 2021 کو قومی پنچائتی راج ڈے پر وزیر اعظم کے ذریعہ ملک بھر میں شروع کیا گیا ۔ یہ اسکیم دیہی آباد علاقوں میں جائیداد کے مالکان کو ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زمین کے پارسلوں کی نقشہ سازی اور قانونی ملکیت کارڈ ( پراپرٹی کارڈز /ٹائٹل ڈیڈ ) کے اجراء کے ساتھ گاؤں کے گھریلو مالکان کو حقوق کا ریکارڈ فراہم کرنے کے ذریعے جائیداد کی واضح ملکیت کے قیام میں مدد کرتی ہے ۔ اس اسکیم میں متعدد پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ جائیدادوں کی منیٹائزیشن کی سہولت اور بینک قرض کو فعال کرنا ، جائیداد سے متعلق تنازعات کو کم کرنا ، جامع گاؤں کی سطح کی منصوبہ بندی ، صحیح معنوں میں گرام سوراج کے حصول اور دیہی ہندوستان کی آتم نربھر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہو گی ۔ یہ اسکیم دیہی منصوبہ بندی کیلئے زمین کے درست ریکارڈ بنانے اور جائیداد سے متعلق تنازعات کو کم کرنے کے علاوہ جی آئی ایس نقشوں کا استعمال کر کے بہتر معیار کے گرام پنچائت ترقیاتی منصوبہ ( جی پی ڈی پی ) کی تیاری میں بھی مدد کرتی ہے ۔ یہ دیہی ہندوستان میں شہریوں کو قرض لینے اور دیگر مالی فوائد کیلئے اپنی جائیداد کو بطور مالیاتی اثاثہ استعمال کرنے کے قابل بنا کر مالی استحکام لاتا ہے ۔ یہ سروے کے بنیادی ڈھانچے اور جی آئی ایس نقشوں کی تخلیق میں بھی مدد کرتا ہے جو کسی بھی محکمے کے ذریعے ان کے استعمال کیلئے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ بہتر گرام پنچائت ترقیاتی منصوبہ جات ( جی پی ڈی پی ) کیلئے ہائی ریزولوشن ڈیجٹل نقشے جو کہ فنڈز کی موثر تقسیم اور رسائی میں اضافہ کے ذریعے اسکولوں ، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز ، ندیوں ، اسٹریٹ لائیٹس ، سڑکوں وغیرہ کے بنیادی ڈھانچہ میں بہتری کا باعث بنتے ہیں ، بھی اسکیم کا حصہ ہیں ۔










