تہران/ایجنسیز//ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے بعض کو نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی، جبکہ دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ناکارہ ہوگئے۔دوسری جانب امریکہ نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔الجزیرہ، اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا کہ نشانہ بننے والے سات جہازوں میں سے چار تیل کی منتقلی میں مصروف تھے اور انہیں رات کے وقت حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایران کے مطابق باقی تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوئے۔
تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور رپورٹ میں ممکنہ جانی نقصان یا متاثرہ جہازوں کے ممالک کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کے دیگر حصوں میں جہازوں کی آمدورفت میں مدد جاری رکھتا ہے تو ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ایرانی ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر موجودہ صورت حال جاری رہی تو تنازعہ خطہ میں امریکی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس نے اس بیان کو امریکہ کیلئے سنجیدہ انتباہ قرار دیا۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتا رہا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔










