برطانیہ میں شہریوں کو تین دن کا کھانا اور پانی ذخیرہ کرنے کی ہدایت

لندن/ایجنسیز//برطانیہ کے وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے کم از کم تین دن کا ضروری کھانا، پانی اور دیگر بنیادی اشیا اپنے گھروں میں ذخیرہ رکھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جدید اور زیادہ پیچیدہ سائبر حملوں کے باعث روزمرہ کی ضروری خدمات اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ایل بی سی کے مطابق وزیر دفاع نے جمعرات کو کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ گھرانے اور کاروباری ادارے کسی بحران کی صورت میں اپنی تیاری کا جائزہ لیں اور جانیں کہ ضروری خدمات عارضی طور پر بند ہونے پر انہیں کیا کرنا ہوگا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سافٹ ویئر میں ایک سنگین سکیورٹی خامی کے باعث برطانیہ کی 32 سرکاری آن لائن خدمات کو عارضی طور پر آف لائن کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق سائبر جرائم پیشہ افراد نے اس خامی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی، جبکہ دنیا بھر میں ادارے اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ اسٹریٹنگ نے خبردار کیا کہ اگر کسی سپر مارکیٹ میں ادائیگی کا نظام بند ہو جائے یا دشمن ریاستوں اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باعث ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہو تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو تیار رہنے کی ترغیب دینا خوف پھیلانے کے مترادف نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ لوگ چوکس رہیں اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی شہریوں کو ضروری اشیا ذخیرہ کرنے کا مشورہ دینے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق برطانوی بنیادی ڈھانچے کو روزانہ مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہتا ہے، اس لئے ان خطرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر رولی واکر نے بھی گزشتہ ہفتہ خبردار کیا تھا کہ ملک کو مستقبل میں دفاعی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور شہریوں کو قومی دفاع کیلئے ممکنہ قربانیوں پر بات چیت کیلئے تیار رہنا چاہیے۔