گرام سبھا ، پنچایت ، بلاک اور ضلع سطح تک بیداری اور جائزہ پروگراموں کو وسعت دینے پرزور
سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے سری نگر میں مرکزی وزارتِ قبائلی اَمور کے زیر اہتمام’ فارسٹ رائٹس ایکٹ ( ایف آر اے )2006 ‘کی عمل آوری پر پر تیسری علاقائی جائزہ کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔جاوید رانا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’فارسٹ رائٹس ایکٹ کی مؤثر اور بامعنی عمل آوری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قبائلی کمیونٹیوں اور دیگر روایتی طور پر رہائش پذیر دیگر لوگوں کے حقوق اور استحقاق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ ایک اہم قانون ہے جس کا مقصد جنگلات پر انحصار کرنے والی کمیونٹیوں کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، ان کے ذرائع معاش کا تحفظ کرنا اور ان کے وقار اور سماجی و اِقتصادی بااختیاری کو یقینی بنانا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ عمل آوری کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے خاطر خواہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ اہل مستفیدین کو اس قانون کے تحت دئیے گئے حقوق مل سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت نے ایکٹ کی عمل آوری کو مضبوط بنانے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیںجن میں جموں و کشمیر میں اس کے نفاذ کے لئے محکمہ قبائلی امور کو نوڈل محکمہ نامزد کرنا بھی شامل ہے۔
وزیرقبائلی اَمور نے اِس بات پر زور دے کر کہا کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ کو جنگلات میں رہنے والی مستحق کمیونٹیوں کے قانون حق کے طور پر سمجھا جانا چاہیے اور اس کے فوائد ایک شفاف اور قابلِ رسائی عمل کے ذریعے ہر مستحق کنبے تک پہنچنے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی اور علاقائی سطح پر منعقدہ کانفرنسیں پیش رفت کا جائزہ لینے او رتجربات کے تبادلے کے لئے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں لیکن ان کا اصل مقصد تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب ان مباحثوں سے حاصل ہونے والی معلومات، فیصلے اور سفارشات نچلی سطح پر موجود کمیونٹیوں تک پہنچیں۔جاوید رانا نے کہا کہ’ فارسٹ رائٹس ایکٹ‘ کی عمل آوری میںگرام سبھاؤں کا مرکزی کردار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ انہیں قانون کے تحت اَپنی ذِمہ داریاں نبھانے کے لئے مکمل بیداری فراہم کی جائے، انہیں اس عمل میں شامل کیا جائے اور ان کی معاونت کی جائے۔اُنہوں نے محکمہ قبائلی امور، ریونیو، جنگلات اور دیہی ترقی محکموںکے ساتھ ساتھ ضلعی اِنتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل پر بھی زور دیا تاکہ قانون کا نفاذ بلا رُکاوٹ ہو سکے اور زیر اِلتوا ٔمعاملات کو بروقت حل کیا جا سکے۔
وزیر موصوف نے اِس بات پر زور دیا کہ دعوئوں کا نمٹارا منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے اور کسی بھی مستحق فرد کو محض طریقہ کار کی پیچدگیوں یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اَپنے جائز حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔اُنہوں نے قبائلی کمیونٹیوں بالخصوص گجر اور بکروال کمیونٹیوں کی خدمات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کمیونٹیوں کا نسل در نسل جنگلات سے گہرا تعلق رہا ہے اور اُنہوں نے روایتی علم، قدرتی وسائل اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ میں نمایاں کردار اَدا کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جنگلاتی حقوق کو تسلیم کرنا اور ماحول کا تحفظ ایک دوسرے کے تکمیلی ذِمہ داریاں ہیں اور انہیں ایک متوازن اور عوام پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعے مل کر آگے بڑھانا چاہیے۔ وزیر قبائلی امور نے اس بات پر زور دیا کہ کانفرنس کے دوران پیش کی گئی سفارشات اور تجربات کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دی جائے اور فیلڈ سطح کے اَفسران کو دستیاب کیاجائے تاکہ ان کو عملی جامہ پہنانے میں عملی بہتری لائی جاسکے۔کانفرنس میں جوائنٹ سیکرٹری مرکزی وزارتِ قبائلی امور اننت پرکاش پانڈے، وزارت کے سینئر اَفسران، شریک ریاستوں کے نمائندوں اور جموں و کشمیر حکومت کے سینئر اَفسران نے شرکت کی۔تکنیکی سیشنوں کے دوران زیر اِلتوا جنگلاتی حقوق کے دعوئوں کی صورتحال، اِنفرادی اور کمیونٹی جنگلات کے حقوق کی شناخت، رہائش کے حقوق، ریونیو اورفارسٹ ریکارڈ ز میں جنگلات کے تسلیم شدہ حقوق شامل کرنے ،ایف آر اے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور مجوزہ نیشنل ایف آر اے پورٹل پر تفصیلی بحث کی گئی۔مہاراشٹر، گجرات، ہماچل پردیش، اُتر پردیش، گوا، راجستھان اور جموں و کشمیر کے نمائندوں نے ایکٹ کی عمل آوری سے متعلق اپنے تجربات، پیش رفت اور طریقوں کا اِشتراک کیا۔کانفرنس کا اختتام عمل آوری کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، اِدارہ جاتی تال میل کو مضبوط کرنے اور فارسٹ رائٹس ایکٹ کے مقاصد کو مکمل طور پر حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے سفارشات کو آگے بڑھانے پر غور و خوض کے ساتھ اِختتام پذیر ہوا۔










