بیروہ (بڈگام)//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بیروہ بڈگام میں 25 کروڑ روپے مالیت کے بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ اِن منصوبوں کا مقصد علاقے میں آمدورفت کے رابطوں کو مضبوط بنانا، بجلی کی فراہمی کو بہتر کرنا، شہری سہولیات میں اِضافہ کرنا اور سیاحت کے اِمکانات کو فروغ دینا ہے۔وزیر اعلیٰ نے نالہ سکھ ناگ پر 8 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے دو سپین والے ٹرس گرڈر پُل کا اِفتتاح کیاجس کا ہر سپین 35 میٹر لمبا ہے۔ اُنہوں نے نالہ سکھ ناگ کی خوبصورتی کو بڑھانے جس میں پیدل چلنے کے راستوں کی تعمیر اور روشنی کے اِنتظامات بھی شامل ہیں اور بیروہ قصبے کی جمالیاتی وخوبصورتی کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا جس پر تقریباً 6.33 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔اُنہوں نے پُل کو مقامی آبادی کا دیرینہ مطالبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تکمیل اور لوگوںکے لئے کھولنے سے رابطے کے ذرائع بہتر ہوں گے اور مکینوں کی آواجاہی آسان ہوگی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نالہ سکھ ناگ کے کنارے کو خوبصورت بنانے کے منصوبے میں واکنگ ٹریک اور ڈیک شامل ہیں جو عوامی مقامات کو بہتر کرے گا اورعلاقے کو سیاحوں کے لئے مزید پُرکشش بنائے گا۔وزیراعلیٰ نے بیروہ میں ٹرانسفارمر ریپیئرنگ ورکشاپ کا بھی سنگ بنیاد رکھا جسے یو ٹی کیپکس بجٹ 2026-27 کے تحت 4.85 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔یہ مرکز خراب شدہ ڈِسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں کی مرمت اور بحالی کے لئے مختص ہوگا جس سے ٹرانسفارمروں کی مرمت اور تبدیلی کا وقت کم ہوگا اور بجلی کی فراہمی زیادہ قابلِ اعتماد ہو سکے گی۔ کام شروع ہونے کے بعد اس ورکشاپ میں سالانہ تقریباً 1000 خراب ڈِسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں کو مرمت متوقع ہے جس سے بجلی کی بندش میں کمی آئے گی اور صارفین کو بالخصوص سردیوں کے مہینوں میںبڑی راحت ملے گی۔ایک اور اہم منصوبہ سیل بیروہ میں 10 ایم وِی اے ریسونگ سٹیشن کی تعمیر ہے جسے 4.50 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔اِس سے قریبی ریسونگ سٹیشنوں پر بوجھ کم ہونے، سردیوں میں اوور لوڈِنگ کے مسئلے کو حل کرنے، ’سیل‘ اور ملحقہ دیہات میں وولٹیج کی سطح کو بہتر بنانے اور غیر اعلانیہ بجلی کی کٹوتیوں اور تکنیکی نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نیا ریسونگ سٹیشن چار سے پانچ ماہ میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ اُنہوں نے سردیوں کے دوران رہائشیوں کو درپیش مشکلات کو دُور کرنے کے لئے ٹرانسفارمر کی مرمت کی مقامی سہولیت قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ اِن شاء اللہ ، ہم اس ورکشاپ کو جلد از جلد مکمل کریں گے۔‘‘اُنہوںنے سونپاہ بیروہ میں سب ڈویژنل آفس کی عمارت کا بھی سنگ بنیاد رکھا جسے یو ٹی کیپکس بجٹ 2026-27 کے تحت 82.29 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔ مجوزہ عمارت اِنتظامی اَمور کے لئے مخصوص جگہ فراہم کرے گی ، دفتری کام کاج کو منظم بنائے گی اور عوامی خدمات تک رَسائی کو بہتر کرے گی۔ اس منصوبے پر کام حال ہی میں شروع ہوا ہے۔بنیادی ڈھانچے سے متعلق اِن اقدامات کا مقصد ضروری خدمات کو بہتر بنانا، مقامی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور بیروہ اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کے لئے شہری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ہمراہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیراعلیٰ کے مشیرناصر اسلم وانی، ممبر قانون ساز اسمبلی بیروہ ڈاکٹر شفیع احمد وانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ پاور ڈیولپمنٹ اَشونی کمار، ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام جِتن کشور اور دیگرسینئر اَفسران بھی تھے۔










