یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی میں تجاویز پیش کرنے کیلئے ٹی ڈبلیو جیز کے ساتھ تبادلہ خیال کیا
سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو نے جموںوکشمیر میں زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی جامع پالیسی وضع کرنے پر آج تکنیکی ورکنگ گروپس( ٹی ڈبلیو جیز) کی ایک میٹنگ منعقد کی جس میں یونین ٹیریٹری لیول ایپکس کمیٹی ( یو ٹی ایل اے سی ) کے ساتھ تجاویز پیش کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر / جموں ، سیکرٹری باغبانی ، سیکرٹری اے پی ڈی ، ڈائریکٹر سری کلچر جے اینڈ کے ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کشمیر / جموں ، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر / جموں ، ڈائریکٹر ایچ پی اینڈ ایم جے اینڈ کے ، ڈائریکٹر فشریز جے اینڈ کے ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایچ پی ایم سی اورتمام ٹیکنیکل ورکنگ گروپ ممبران اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔جموں میں مقیم اَفسران نے سکاسٹ ۔ جموں سے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔جموںوکشمیر حکومت نے حال ہی میں سابق ڈی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگل رائے کی سربراہی میں ایک 8رُکنی ایپکس کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ زراعت اور اِس سے منسلک شعبو ںکی ہمہ گیر ترقی کے لئے ایک جامع زرعی پالیسی وضع کی جاسکے۔اِس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ٹی ڈبلیو جیز سے تجاویز حاصل کرنے کے لئے ایک غور طلب میٹنگ منعقد کی تاکہ اپیکس کمیٹی کے ساتھ تجاویز پیش کی جائیں۔ماہرین اور سائنسدانوں کے درمیان سیر حاصل بحث و تمحیص کا اِنعقاد کیا گیا جس میں کمیٹی کو پیش کرنے سے پہلے تمام 25تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔تمام مذکورہ تجاویز کے ایک وسیع خاکہ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہواتاکہ مسائل ، تجزیہ پر مبنی ڈیٹا اور ان کے حل کی نشاندہی کر کے قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک تجویز تیا ر کی جاسکے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے نام سے 25 تجاویز پیش کی جائیں گی جس کی سربراہی محکمہ کے ڈائریکٹر یا کسی بھی سبجیکٹ کے ماہر کے پاس ہوگی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو نے شرکأ کو بتایا کہ کمیٹی کا ہدف اَگلے پانچ برسوں میں ایگری ۔ جی ڈی پی کی شراکت کو دوگنا کرنا اور جموںوکشمیر یوٹی کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے مختص 900 کروڑ روپے کے فنڈ سے فائدہ اُٹھانا، 2,000 نوجوانوں کو ہنر کی تربیت ، فوڈ پروسسنگ میں تین گنا اِضافہ ، دیگر ترجیحی شعبوں میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔میٹنگ میں کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنسز پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور ٹی ڈبلیو جیز کو سبجیکٹ کے ماہرین کے طور پر کام کرنے اور اِس کے مطابق اَپنے متعلقہ ورکنگ ڈومینز میں کام کرنے پر زور دیا گیا ۔ توقع ہے کہ کمیٹی چار ماہ کے اَندر اَپنی پالیسی سفارشات پیش کرے گی۔










