مشرقی انڈونیشیا میں چینی فنڈنگ سے چلنے والے نکل پروسیسنگ پلانٹ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق حادثے سے متعلق پلانٹ کی میزبانی کرنے والے صنعتی پارک کے مالک نے بتایا۔انڈونیشیا کا جزیرہ سولاویسی معدنیات سے مالا مال ملک کی نکل کی پیداوار کا مرکز ہے، نکل وہ بنیادی دھات ہے جو الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں اور اسٹینلیس اسٹیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔چین کی بڑھتی سرمایہ کاری کے دوران انڈسٹریل پارک میں کام کرنے کے حالات سے متعلق بے چینی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔کمپلیکس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ حادثہ سینٹرل سولاویسی صوبے کے مورووالی انڈسٹریل پارک میں پی ٹی انڈونیشیا سنگشن اسٹین لیس سٹیل (آئی ٹی ایس ایس) کے پلانٹ میں صبح 5 بج کر 30 منٹ کے قریب پیش آیا۔حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ دھماکا ایک بھٹی کی مرمت کے دوران اس وقت ہوا جب آتش گیر مادے میں آگ لگی جس کے بعد دھماکا ہوا اور قریبی رکھے آکسیجن ٹینک بھی پھٹ گئے۔










