mutton hunger

اننت ناگ میں قائم ذبح خانہ گزشتہ 35 برسوں سے بند

قصاب اپنے گھروں سے جانوروں کو ذبح کرکے لاکر دکانوں پر سجالیتے ہیں

سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم ذبح خانہ گزشتہ 35 برسوں سے بند پڑا ہے اور قصاب اپنے گھروں سے ہی بھیڑ بکریوں کو ذبح کرکے آتے ہیں جن کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہوتی کہ یہ جانور پہلے سے مردہ تھے ، بیمار تھے یا ٹھیک تھے جبکہ متعلقہ محکمہ بھی اس سلسلے میں تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں گوشت فروش انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلم کھلا کھوارڑ کررہے ہیں کیوںکہ جن جانوروں کو وہ ذبح کررہے ہیں ان کے بارے گراہکوں کو کوئی علمیت نہیں ہوتی کہ آیا یہ جانور مردہ تھے ، بیمار تھے یا ان میں کوئی اور نقص تھا۔ ذرائع کے مطابق اننت ناگ کے گانجی واڑہ میں 1989 تک ذبح خانہ چل رہا تھا جہاں پر میونسپلٹی اور محکمہ فوڈ کے افسران صبح حاضر ہوکر زبح کئے جانے والے جانوروں کی جانچ کرتے اور ذبح ہونے کے بعد ان جانوروں پر مہر ثبت کرتے تھے لیکن گزشتہ تیس برسوں سے یہ ذبح خانہ بند پڑا ہے جبکہ اس کی عمارت بھی اب خستہ ہوچکی ہے۔ ضلع کے ایک شہری ایس طارق نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 35 برس پہلے یہ ذبح خانہ چالو تھا لیکن اب یہ بند پڑا ہے۔ انہوںنے کہا کہ قصاب اب اپنے ہی گھروں سے بھیڑ بکریوں کو ذبح کرکے لے آتے ہیں جن کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ وادی کشمیر میں بیرون منڈیوں سے ہی لگ بھگ 90 فیصدی جانوروں کو درآمد کیا جاتا ہے گاڑیوں میں 180جانوروں کو رکھا جانا ہوتا ہے تاہم گاڑیوں میں 280 سے بھی زائد جانوروں کو لادا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بھیڑ بکریاں یہاں پہنچتے پہنچتے ادھ مرے ہوجاتے ہیں یا کچھ مر ہی جاتے ہیں لیکن ایسے جانوروں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ملتی۔