سوپور اور کھٹوعہ جانے سے پہلے مجھے اور میری والدہ کو گھر میں نظر بند رکھا گیا / التجا مفتی کا الزام
سرینگر // جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اور ان کی والدہ کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور انہیں سوپور اور کھٹوعہ تعزیت کیلئے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق پی ڈپی پی لیڈر التجا مفتی نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے والدہ کے ہمراہ گھر میںنظر بند کر دیا گیا ۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا ’’”میری والدہ اور مجھے دونوں کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ہمارے دروازے بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ وہ سوپور جانے والی تھیں جہاں وسیم میر کو فوج نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا‘‘۔انہوں نے مزید لکھا ’’میں نے آج مکھن دین کے اہل خانہ سے ملنے کٹھوعہ جانے کا ارادہ کیا تھا اور مجھے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی تھی۔ انتخابات کے بعد بھی کشمیر میں کچھ نہیں بدلا۔ اب تو متاثرین کے اہل خانہ کو تسلی دینے کو بھی مجرم قرار دیا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات مکمل ہونے کے باوجود کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار ہیں۔










