اسرائیل کی غزہ پر زمینی حملے کی تیاری، فلسطینیوں کا انخلا جاری

اسرائیل خود پر تاریخ کے مہلک ترین حملے کے ردعمل میں حماس کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کرنے اور فلسطینیوں کو شمالی علاقوں سے فرار ہونے کے لیے کچھ مزید وقت دینے کے بعد اب غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔حماس کے اچانک راکٹ حملے میں 1300 سے زائد افراد مارے گئے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بمباری کی جس کے نتیجے میں 2 ہزار 200 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اسرائیل نے فلسطینی سرزمین کے شمال میں رہنے والے غزہ کے تقریباً 11 لاکھ شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ زمینی حملے سے قبل جنوب کی طرف انخلا کر جائیں، اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا ہے کہ وہ حماس کی قیادت کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے غزہ شہر پر توجہ مرکوز کرے گی۔فوج نے کہا کہ غزہ کے شہریوں کو روانگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے تاہم گزشتہ روز ایک ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس زمینی حملے سے پہلے نکلنے کا وقت موجود ہے۔جمعہ کے بعد سے غزہ کے ہزاروں شہری، جو کہ اسرائیل اور مصر دونوں کی جانب سے ناکہ بندی کے باعث وہاں سے باہر نہیں نکل سکتے، تھیلوں اور سوٹ کیس اٹھائے ملبے سے بھری گلیوں سے گزرتے نظر آئے۔کاروں، ٹرکوں اور گدھا گاڑیوں کا ایک سلسلہ جنوب کی جانب سے رواں دواں نظر آیا، جن پر تمام خاندان سوار تھے اور ان کے سامان، گدے، بستر اور بیگ لدے ہوئے نظر آئے۔
مزید حملوں کا انتباہ
اسرائیل نے گزشتہ روز تازہ فضائی حملوں کے ذریعے شمالی غزہ کو نشانہ بنایا، جنوبی اسرائیل کے شہر سدروٹ کے قریب گنجان آباد علاقے میں فوجیوں کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے آسمان پر سیاہ دھویں کے بڑے بڑے شعلے اٹھ رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز کہا کہ حماس کے حملوں میں اغوا کیے گئے درجنوں یرغمالیوں میں سے کچھ کی لاشیں غزہ کے اندر آپریشن کے دوران ملی ہیں۔حماس نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسرائیلی بمباری میں 22 یرغمالی مارے گئے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس سے قبل سرحدی محاذ پر فوجیوں کا دورہ کیا۔ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پر کئی فوجیوں کو کہتے سنا گیا کہ ’کیا تم تیار ہو جو آنے والا ہے؟ مزید کچھ آنے والا ہے‘۔امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کرنے کی جانب بڑھنے کے خدشے سے بچنے کے لیے امریکا نے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کو روکے گا۔ناکہ بندی اور محصور غزہ میں اس وقت فلسطینی شہریوں کے لیے مسلسل خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے، امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنا اس وقت ناممکن ہے جب تنازع جاری ہے۔لیکن اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے خوراک، پانی، ایندھن اور طبی سامان کی کمی کے ساتھ امدادی ایجنسیاں انسانی بحران شدید ہونے کا انتباہ دے رہی ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں کے ہزاروں مریضوں کو انخلا پر مجبور کرنا سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔حماس کے جلاوطن سربراہ اسمٰعیل ہنیہ نے گزشتہ روز اسرائیل پر غزہ میں ’جنگی جرائم‘ کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا لیکن انہوں نے غزہ کے لوگوں کے انخلا کو مسترد کیا۔اسرائیل کی جانب سے حماس پر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔دوسری جانب چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق چینی ایلچی ژائی جون سیز فائر پر زور دینے اور امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔سعودی عرب نے بھی فوری سیز فائر پر زور دیا ہے، روس نے کہا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے سیز فائر کے لیے اپنی قرارداد پر کل پیر کو ووٹنگ کرنے کو کہا ہے۔
ایران کا انتباہ
ایران نے سوشل میڈیا پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کے ’جنگی جرائم اور نسل کشی‘ نہ رکے تو صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے ’ایکس‘ پر یہ پوسٹ ’ایکسیوس‘ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران نے اسرائیل کو اقوام متحدہ کے ذریعے بھیجے گئے ایک پیغام میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل، حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کرتا ہے تو ایران کو جواب دینا پڑے گا۔ایران کے اقوام متحدہ کے مشن نے پوسٹ کیا کہ اگر اسرائیلی نسل پرستی کے جنگی جرائم اور نسل کشی کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اُن ریاستوں پر عائد ہوتی ہے جو سلامتی کونسل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مشن نے ’ایکسیوس‘ کی اِس رپورٹ یا ایران کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
جوبائیڈن، نیتن یاہو کا ٹیلی فونک رابطہ
گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ٹیلی فونک کال میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کہا کہ امریکا خطے میں اقوام متحدہ، مصر، اردن اور دیگر کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ معصوم شہریوں کو پانی، خوراک اور علاج تک رسائی حاصل ہو۔جوبائیڈن نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے بھی بات کی اور وائٹ ہاؤس کے مطابق خاص طور پر غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد پہنچانے کی کوششوں میں فلسطینی اتھارٹی کی ’مکمل حمایت‘ کا وعدہ کیا۔حماس کے حکام اور عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ روز جنوب کی طرف جاتے ہوئے اسرائیلی بمباری میں متعدد افراد مارے گئے، ’اے ایف پی‘ فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں، بشمول اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے علاوہ کئی غیر ملکی سفارت کار انخلا کے منصوبے کی معقولیت کے بارے میں فکر مند ہیں، ناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل کے ایوان کارکاشیان نے کہا کہ ہمیں ایک بدترین انسانی تباہی کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 4 لاکھ 23 ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں اور 5 ہزار 540 گھر تباہ ہو چکے ہیں۔
فضائی حملے
اسرائیل نے شمالی غزہ پر ہزاروں میزائل داغے ہیں، فوج نے کہا کہ اس نے حماس کی کمانڈو فورسز کی ایک یونٹ کے کمانڈر علی قادی کو فضائی حملے میں مار ڈالا ہے جو کہ اسرائیل پر راکٹ حملے میں ملوث تھا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کو گھیرے میں لے کر مقامی سطح پر چھاپے بھی مارے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ممکنہ طور پر مزید جنگی کارروائیاں کریں گے، جب ہم ایسا کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ سب کیسے شروع ہوا، یہ سب حماس کا کیا دھرا ہے۔لیکن قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے انٹیلی جنس کی خامیوں کا اعتراف کیا جو حملے کی پیشگی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کا عزم کیا ہے، جسے اس نے داعش سے تشبیہ دی ہے لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ عام فلسطینی ان کا ہدف نہیں ہیں۔فلسطینی وزیر اعظم محمد شطیہ نے اسرائیل پر غزہ میں ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا ہے، مقبوضہ مغربی کنارے میں جھڑپوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 53 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔جمعے کو عرب دنیا میں اسرائیل کی مذمت اور غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کے لیے مظاہرے ہوئے، لندن اور واشنگٹن سمیت مغربی دارالحکومتوں میں بھی فلسطینیوں کی حمایت میں مارچ دیکھنے میں آئے۔حماس نے اسرائیل کی جانب سے ہر غیر اعلانیہ فضائی حملے کے ردعمل میں یرغمالیوں کو ایک ایک کرکے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک یرغمال بنائے گئے 120 شہریوں کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان قیدیوں کو جلد از جلد ادویات منتقل کی جائیں۔