جبکہ دنیا کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے ہندوستان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کیلئے کچھ حاصل کرنا ناممکن نہیں / وزیر اعظم مودی
سرینگر // اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا اور چین کی جانب سے نام تبدیل کرنے کے دعوو ں سے حقیقت بدل نہیں سکتی ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دنیا بھر ہندوستان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کیلئے کچھ حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر سے کینا کماری تک ملک ترقی کر رہا ہے اور یہ سب ہمارے دور اقتدار میں ممکن ہوا اور دعویٰ کیا ہے کہ تیسری مدت میں جو ترقی ہو گی وہ دنیا کیلئے ایک مثال ہو گی ۔ سی این آئی کے مطابق آسام ٹریبیون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے نریندر مودی نے کہا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ تھاہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے علاقائی دعووں کو سرے سے خارج کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکز کی بروقت مداخلت اور حکومت کی کوششوں سے ریاست کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔وزیر اعظم نے ٹنل کے بارے میں کہا جب انہوں نے ڈونی پولو ہوائی اڈے اور اروناچل پردیش میں شروع کیے گئے دیگر پروجیکٹوں کا بھی ذکر کیا، جس میں خوشحالی کو بہتر بنانے کیلئے 55,000 کروڑ روپے کی پانی اور ہاوسنگ اسکیم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نیاْنّتی اور دیگر اسکیموں کے ذریعے پورے شمال مشرق کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ مودی نے کہا ‘‘ آج شمال مشرق نئے ہندوستان کی سب سے بڑی کامیابی کی کہانی کے طور پر ابھرا ہے‘‘۔ وزیراعظم مودینے اپنی انتظامیہ کی بے مثال سرمایہ کاری اور خطے کی ترقی کیلئے اقدامات پر زور دیتے ہوئے، اور سابقہ انتظامیہ کی جانب سے اس خطے کو ’’تاریخی نظر انداز‘‘ سے متصادم قرار دیا۔ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک، شمال مشرقی ریاستیں حاشیے پر چلی گئیں۔وزیر اعظم نے منی پور میں نسلی تصادم سے نمٹنے کیلئے اپنی حکومت کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا جس میں 175 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ “ہم نے تنازعات کو حل کرنے کے لیے اپنے بہترین وسائل اور انتظامی مشینری وقف کر دی ہے۔ حکومت ہند کی بروقت مداخلت اور منی پور حکومت کی کوششوں کی وجہ سے ریاست کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دنیا بھر ہندوستان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کیلئے کچھ حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر سے کینا کماری تک ملک ترقی کر رہا ہے اور یہ سب ہمارے دور اقتدار میں ممکن ہوا اور دعویٰ کیا ہے کہ تیسری مدت میں جو ترقی ہو گی وہ دنیا کیلئے ایک مثال ہو گی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جبکہ دنیا کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے ۔ ہندوستان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کیلئے کچھ حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے ایک ایک ووٹ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔’’مقصد چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، اگر ہندوستان اسے حاصل کرنے کا عزم رکھتا ہے تو وہ ضرور حاصل کرے گا۔ آج، اس تحریک اور توانائی کے ساتھ، ہم ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے حل کی سمت کام کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ پوری دنیا کی مشکلات کے درمیان، ہندوستان دکھا رہا ہے کہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ ایک وقت تھا جب کانگریس کی حکومت دنیا سے مدد مانگتی تھی، لیکن کوویڈ کے دوران وبائی مرض، ادویات بھارت سے پوری دنیا کو دستیاب کرائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معاشی طاقت بنا تو کیا آپ (لوگوں( کو اس پر فخر تھا یا نہیں؟ جب ہمارے چندریان نے چاند پر ترنگا لہرایا تو آپ کو فخر تھا یا نہیں؟ ہندوستان میں منعقدہ عظیم الشان G20 سربراہی اجلاس کی پوری دنیا میں تعریف کی گئی۔مودی نے کہا کہ جب ملک مضبوط ہوتا ہے تو دنیا اسے سنتی ہے۔










