4.326 کروڑ روپے کی وصولی کا حکم
سرینگر/ / یو این ایس / پی ایم جی ایس وائی جموں کے چیف انجینئر نے ادھم پور ضلع کے پنچاری بلاک میں کینتھ گلی بلاک باو ¿نڈری ادھم پور باریوٹ سڑک کے پہلے حصے کا ٹھیکہ منسوخ کرتے ہوئے متعلقہ مشترکہ منصوبے سے 4.326 کروڑ روپے کی وصولی کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی تعمیراتی کام اور سڑک کی معمول کی دیکھ بھال میں مبینہ ناکامی کے بعد کی گئی۔یہ کام ایم ایس بی اینڈ ایل پروجیکٹ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایم ایس بی ایس بلڈرز کے مشترکہ منصوبے کو پی ایم جی ایس وائی پیکیج نمبر جے کے 14-684 کے تحت الاٹ کیا گیا تھا۔ 29 ستمبر 2026 کے حکم کے مطابق یہ منصوبہ پی ایم جی ایس وائی کے ریگولر بیچ اول 2018-19 کے تحت منظور کیا گیا تھا۔ منصوبے کی تخمینی لاگت 21.13 کروڑ روپے تھی جبکہ مشترکہ منصوبے کو یہ کام 20.67 کروڑ روپے میں الاٹ کیا گیا تھا۔محکمہ کے مطابق ٹھیکیدار نے تقریباً دو کلومیٹر سڑک پر بٹومین کا کام مکمل کرنے کے بعد بغیر کسی معقول وجہ کے کام روک دیا۔ بار بار ہدایات اور نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود بٹومین کا کام دوبارہ شروع نہیں کیا گیا اور نہ ہی جنرل سب بیس بچھانے اور حفاظتی کام سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل کیے گئے۔حکام نے کہا کہ کام کی سست رفتاری اور بعد میں دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری نہ کیے جانے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ کے مطابق سڑک کا کام 28 مارچ 2024 کو مکمل قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد معاہدے کی شرائط کے تحت سڑک کی معمول کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی متعلقہ ٹھیکیدار پر عائد ہوتی تھی۔ تاہم، مشترکہ منصوبہ مبینہ طور پر بعد میں ضروری دیکھ بھال کا کام جاری رکھنے میں ناکام رہا۔پی ایم جی ایس وائی جموں کے چیف انجینئر پی کے پھونسا کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کو ادھم پور اور ریاسی اضلاع کے بعض علاقوں میں سڑک کی تعمیر اور دیکھ بھال کا کام سونپا گیا تھا۔ محکمہ کی جانب سے ایگزیکٹو انجینئرز اور سپرنٹنڈنگ انجینئر کے ذریعے متعدد نوٹس جاری کیے گئے، تاہم ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کام شروع نہیں کیا۔محکمہ نے معاہدے کی خلاف ورزی اور کام انجام نہ دینے پر 360.50 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کیا ہے، جبکہ معاہدے کی شق 43.4 کے تحت مزید 20 فیصد جرمانہ یعنی 72.10 لاکھ روپے بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 4.326 کروڑ روپے کی رقم وصول کی جائے گی۔حکم نامے کے مطابق اگر کوئی رقم بقایا رہتی ہے تو اسے جموں و کشمیر میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت ٹھیکیدار کے دیگر بلوں، جمع شدہ رقم، سیکیورٹی یا واجب الادا ادائیگیوں سے وصول کیا جائے گا۔ مشترکہ منصوبے کو ایک سال کے لیے پی ایم جی ایس وائی اور جے کے آر ڈی اے کے تحت نئے ٹینڈروں اور کاموں میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا ہے، جبکہ پرفارمنس سیکیورٹی اور دیگر سیکیورٹی ڈپازٹس ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایگزیکٹو انجینئر پی ایم جی ایس وائی ڈویڑن ریاسی کو سڑک کی معمول کی دیکھ بھال کے لیے نئے سرے سے ٹینڈر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔










