چار رہائشی مکان ،تین گاؤ خانے ،پانچ شیڈ خاکستر ،لاکھوں کاسامان راکھ میں تبدیل
سرینگر/اے پی آئی// ویلگام کپوارہ میں دوران شب آگ کی بھیانک واردات رونماء، چار رہائشی مکان تین گاؤ خانے پانچ شیڈخاکستر ،لاکھوں روپے مالیت کاسامان راکھ کے ڈھیرمیں تبدیل ،کئی کنبوں کے افرادکھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پرمجبو ر،فائرایمرجنسی عملی کے بھروقت جائے موقع پرنہ پہنچنے پر عوام میں ناراضگی ،انتظامیہ کے خلاف غم وغصے کاکیااظہار ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق ویلگام کپوارہ کے علاقے میں اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب 22 اور 23ستمبر کی درمیانی رات کو ایک رہائشی مکان سے آگ نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے مزیدتین رہائشی مکانوں تین گاؤ خانوں اور پانچ شیڈو ںکولپیٹ میں لے لیا ۔آگ کے شعلے بلندہونے کے ساتھ ہی لوگوں کی آنکھ کھل گئی اور وہ جائے موقع پرپہنچ گئے ۔آگ بجھانے کی کارروائی کے ساتھ جڑ گئے ،آگ کی اس واردات میں لاکھوں روپے مالیت کاگھریلوں سامان اوردوسری اشیاء راکھ کے ڈھیرمیں تبدیل ہوئی ۔اگرچہ مقامی لوگوں نے فائرایمرجنسی عملے کو ویلگا م کپوارہ میں آگ نمودار ہونے کے بارے میں جانکاری فراہم کی تاہم متعلقہ عملہ کو اپنی خدمات انجام دینے میں وقت لگ گیاجسکے نتیجے میں چار رہائشی مکان ،تین گاؤ خانے او رپانچ شڈ خاکستر ہوئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر فائرایمرجنسی عملہ بھروقت جائے موقع پرپہنچا تو کئی رہائشی مکانوں کوخاکستر ہونے سے بچایاجاسکتا تھا۔لوگوں کے مطابق کپوارہ میں فائرایمرجنسی عملی کی قلت ہے اور آگ بجھانے والے ملے کے پاس جدید گاڑیاں بھی دستیاب نہیںہے ۔جموںو کشمیر پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویلگام کپوارہ میں دوران سب آگ نمودار ہوئی اورجسکے نتیجے میں چار رہائشی مکان تین گاو خانے او رپانچ شیڈ خاکستر ہوئیں۔ پولیس کے مطابق جن کنبوں کے رہائشی مکان آگ کی اس واردات میں خاکستر ہوئے، ان میں محمدجمال ،عبدالرشید تیلی ،غلام قادر بٹ ،محمد رمضان میر اور عبدالرحمان میر شامل ہیں ۔پولیس کے مطابق سات سے پانچ کنبے کھلے آسمان تلے زندگی گزا رنے پرمجبو رہوئے اور لوگوں روپے مالیت کی اشیاء راکھ ے ڈھیرمیں تبدیل ہوئی تاہم کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ،آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لئے کیس درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ۔










