نینو ٹیکنالوجی سے وابستہ سائنسدانوں اور ماہرین کو دفاعی شعبے میں خود انحصاری مہم کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں بھی شامل ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنفس ’ ٹیکنالوجی فار بیٹر لیونگ (این بی ایل )۔2025‘ کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔ پانچ روزہ میگا ایونٹ جو کشمیر یونیورسٹی نے اِنڈین انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) حیدرآباد کے اشتراک سے منعقد کیا ہے۔اِس میں دُنیا کے معروف سائنسدانوں اور محققین نے شرکت کی تاکہ نینوٹیکنالوجی میں حالیہ پیش رفت اور دیر پا زِندگی کے لئے اِس کے اِستعمال کو اُجاگر کیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے کلیدی خطاب میںنینوٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقیوں اور اِنقلابی کامیابیوں پر روشنی ڈالی جو اِنسانی زِندگی اور کام کے ماحول کو بدل رہی ہیں اور آسان طرزِ زِندگی کو یقینی بنا رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’آج نینوسائنس اور نینوٹیکنالوجی میں اِرتقا مختلف شعبوں پر تبدیلی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مستقبل کی جدید تحقیق صنعتوں، صحت شعبے اور ماحولیات میں درپیش اہم عالمی چیلنجوں کا حل پیش کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’دنیا کی کوئی ایسی سماجی و معاشی ترقی کا شعبہ نہیں ہے جس میں نینوٹیکنالوجی کسی نہ کسی انداز میں شامل نہ ہو۔ آنے والے برسوں میں جب ہم نئی سائنسی ترقیات رقم کریں گے تو یہ مزید نمایاں ہو جائے گا۔‘‘اُنہوں نے سائنسدانوں اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ ایک ایسا گروپ تشکیل دیں جو نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ حساس اور درست سینسر تیار کرکے اچانک آنے والے سیلابوں کے لئے اَرلی وارننگ سسٹم تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ایسے نینومیٹریل بنانے پر توجہ دینی چاہیے جو کیمیائی صنعتوں میں آلودگی کو کم کر سکیں۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہمالیائی خطوں کے لئے خصوصی مٹی کے سینسر تیار کرنے کے امکانات تلاش کریں۔ یہ سینسر مٹی میں نمی کی تبدیلی کی بنیاد پر قبل اَز وقت لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے آگاہ کرنے والے جدید پیشگی وارننگ سسٹم کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ منصوبے مستقبل میں ہندوستان کے ہمالیائی خطے میں آفاتِ سماوی کے نقصانات کو روکنے میں گیم چینجر ثابت ہوں گے۔مزید برآں،اُنہوںنے نینو ٹیکنالوجی سے وابستہ سائنسدانوں اور ماہرین سے کہا کہ وہ دفاعی شعبے میں ہلکے وزن کے آلات کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ نینوٹیکنالوجی کے ماہرین اور سائنسدان اس مہم میں شامل ہوں اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے عزم کو مزید مستحکم کریں۔اُنہوںنے تعلیمی اِداروں میں نینوٹیکنالوجی شعبے میں صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر بھی زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہماری توجہ نینوٹیکنالوجی کو ترقی دینا اور اسے انسانیت کی فلاح کے لئے استعمال کرنا ہونا چاہیے۔ ہم موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ہماری ایجادات اور پہل یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نینو ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’مستقبل میں نینوسکیل ٹرانزسٹرز، نینو پارٹیکلز، نینومیٹریلز اور توانائی، ماحولیات، خوراک، زراعت اور الیکٹرانکس میں نینو ایڈیٹِوز کی نئی ایجادات اِنسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے نہایت اہم ثابت ہوں گی۔ مجھے اُمید ہے کہ ان ٹیکنالوجیوں کے فوائد عام آدمی تک ضرور پہنچیں گے۔‘‘اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی ایک خلاصہ کتاب بھی جاری کی۔تقریب میںوائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، ڈین اکیڈمکس،بی آر آئی سی۔اِن سٹم بنگلور پروفیسر پروین کے ویمولا، آئی آئی ٹی کانپور کے نامور سائنسدان پروفیسر اشوک کمار، ڈیپارٹمنٹ آف نینو ٹیکنالوجی کشمیر یونیورسٹی کی سربراہ اور کانفرنس کی آرگنائزنگ چیئر پروفیسر رابعہ حامد، سائنسدان، ماہرین، محققین اور تعلیمی اِداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔اِفتتاحی تقریب میں صوبائی کمشنر کشمیر اَنشل گرگ؛،ڈِی آئی جی سینٹرل کشمیر رینج راجیو پانڈے،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اَکشے لابرو، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وِی سندیپ چکرورتی، رجسٹرار کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نصیر اِقبا ل ،سکالرز، اساتذہ اور طلبأ بھی موجود تھے۔










