damaged roads in kashmir

بٹہ گنڈ درسگاہ تا پیرپورہ سڑک خستہ حالی کا شکار

حضرت کرم شاہ صاحب کی زیارت، مدارس و مساجد کی موجودگی کے باوجود محکمہ کی غفلت

سرینگر/وی او آئی//بٹہ گنڈ کے مضافاتی علاقوں کو پیرپورہ سے ملانے والی درسگاہ تا پیرپورہ لنک روڑ کی خستہ حالی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس اہم رابطہ سڑک پر تقریباً پانچ سے چھ محلے آباد ہیں، جن کے مکین روزانہ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔وائس آف انڈیاکے نامہ نگارپیرزادہ سید فردوس احمدکے ساتھ بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہ کہ یہ سڑک نہ صرف عرصہ دراز سے میکڈم کاری سے محروم ہے بلکہ مرمت کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی سڑک پر معروف ولی کامل حضرت کرم شاہ صاحبؒ کی زیارت واقع ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک اہم دینی مدرسہ اور دو بڑی مساجد (شادیمحلہ اور دیوان پورہ) بھی واقع ہیں۔ کئی سرکاری ملازمین بھی اسی سڑک کے اطراف میں رہائش پذیر ہیں، جو اس سڑک کی عوامی اور مذہبی اہمیت کو دوچند کرتے ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے، گہرے گڑھے حادثات کا سبب بن رہے ہیں، اور برسات یا برفباری کے دنوں میں یہ سڑک مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو جاتی ہے۔ خواتین، بزرگ، طلبہ اور مریض شدید اذیت کے ساتھ روزانہ آمد و رفت پر مجبور ہیں۔ نکاسیِ آب یا ڈرینج کا کوئی بندوبست نہ ہونے کے سبب معمولی بارش بھی مشکلات کا طوفان لے آتی ہے۔مقامی لوگوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بارہا محکمہ تعمیرات عامہ (R&B)، ایم ایل اے غلام احمد میر، ڈپٹی کمشنر اننت ناگ، اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو اس اہم مسئلے سے آگاہ کیا، لیکن ہر بار صرف زبانی دعوے اور تسلیاں ہی سننے کو ملیں۔عوام کا کہنا ہے کہ غلام احمد میر کو بارہا منتخب کیا گیا، لیکن انہوں نے اس علاقے کو یکسر نظرانداز کیا۔”جب انتخابات آتے ہیں تو ہمارے گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہیں۔ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ہمارے ووٹ کی کوئی قدر نہیں؟” — ایک مقامی بزرگ کا سوال۔آخر میں، عوام نے پرزور مطالبہ کیا کہ حضرت کرم شاہ صاحب کی زیارت، دینی مدرسے، مساجد اور بستی کی اہمیت کے پیشِ نظر اس سڑک کی فوری مرمت، کشادگی، اور مکمل میکڈم کاری عمل میں لائی جائے، تاکہ بٹہ گنڈ، درسگاہ، پیرپورہ اور دیگر ملحقہ محلہ جات کے لوگوں کو سکون، سہولت اور تحفظ میسر آ سکے۔