سب سے بڑی تقریب خانقاہ معلی سرینگر میں منعقد ، ہزاروں عقیدت مندوںنے آستان عالیہ پر حاضری دی
سرینگر//حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، ؒ کے سالانہ عرس کی اختتامی تقریبات کے سلسلے میں پوری وادی میں شب خوانی اور درودواذکار کی روح پرور مجالس میں عقیدتمندوں کی بھاری تعدادنے شرکت کی جبکہ سب سے بڑی تقریب خانقاہ معلی سرینگر میں منعقد ہوئی جہاں پر حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، ؒکے آستان عالیہ پر ہزاروں عقیدت مندوںنے حاضری دی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ کے سالانہ عرس کی اختتامی تقاریب کے موقعے پر ہر سال کی طرح اس بار بھی اہل وادی نے جوش و خروش اور عقیدت و احترام کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب خانقاہ معلی سرینگرمنعقد ہوئی جہاں ہزاروں عقیدت مندبشمول خواتین رات بھر شب خوانی میں محو رہے ۔خانقاہ میں رات بھر نعت و منقبت، درودواذکار اور ختمات المعظمات کی محفلیں آراستہ ہوئیں۔ حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، عرس کے سلسلہ میںخانقاہ معلیٰ کے ساتھ ساتھ دیگر جگہوں پر بھی عقیدتمندوں کی بڑی تعداد نے شب خوانی کی جس کے نتیجے میں علاقہ کی فضائیں رات بھر روح پرور آوازوں سے گونجتی رہیں۔منگل کونماز فجر کے موقعہ پر خانقاہ معلی میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمندوں جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی،حضرت اس دوران وادی کے مختلف علاقوں میںدن بھر لوگوں کی بھاری تعداد نے حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، ؒ کی زیارت گاہوں پر حاضری دی ۔ادھر نمائندوں کے مطابق اس ضمن میںوادی بھر میں ان کی خانقاہوں پر چراغاںکیا جاتا ہے اور میلے لگائے جاتے ہیں۔اس بار بھی مجموعی طور پران تقریبات میں عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔انہوں نے کہا کہ صوفی بزرگ حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، جنہیں شاہ ہمدان بھی کہا جاتا ہے، کا سالانہ عرس انتہائی مذہبی جوش و جذبے اور روحانی عقیدت کے ساتھ منایا گیا، بشمول پلوامہ ضلع کے ترال اور سرینگر کے مرکز میں کشمیر کے مختلف حصوں میںادھر ترال کے تاریخی خانقاہ فیض پناہ میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں عقیدت مند خصوصی اجتماعی دعاؤں میں شرکت کے لیے جمع ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، مزار میں خاص طور پر نماز ظہر کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ترال سب ڈویڑن اور جنوبی کشمیر کے دیگر حصوں کے درجنوں دیہات کے لوگ ان کی تعزیت کے لیے اکٹھے ہوئے۔اس موقع پر حضرت شاہ ہمدان رحمت اللہ علیہ کے مقدس آثار کو عقیدت مندوں کے سامنے پیش کیا گیا جس سے روحانی ماحول مزید گہرا ہو گیا۔سری نگر میں، عرس کی مرکزی تقریب دریائے جہلم کے کنارے واقع مشہور خانقاہ مولا کے مزار پر منعقد ہوئی۔ وادی کے مختلف حصوں سے عقیدت مندوں نے مزار پر جمع ہوکر رات بھر کی دعاؤں میں شرکت کی۔ دوپہر کی باجماعت نماز کے دوران اجتماع میں مزید اضافہ ہوا، جہاں کشمیر میں امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔آستان کو روشنیوں سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، اور آس پاس کا علاقہ سرگرمی سے گونج اٹھا جب دکانداروں نے اس موقع کے لیے مختلف اشیاء فروخت کرنے والے اسٹال لگائے۔ حکام نے تقریب کے ہموار انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے گرم اور مرطوب موسم سے عقیدت مندوں کو پناہ دینے کے لیے شامیانوں کا انتظام کیا تھا۔حضرت میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ، ایک مشہور ایرانی نڑاد صوفی اسکالر، شاعر، اور مبلغ نے 14ویں صدی کے دوران کشمیر میں اسلام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 774 ہجری (1372 عیسوی) میں 700 شاگردوں کے ساتھ وادی میں پہنچا۔ اگرچہ ان کا انتقال 1384 عیسوی میں ختلان، تاجکستان میں ہوا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ واضح رہے کہ عرس مبارک میر سید علی ہمدانی ؒ کے سلسلے میں وادی بھر کی مساجد ، خانقاہوں میںخصوصی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور وعظ و تبلیغ کا اہتمام کیا گیا ۔










