وزیر اعلیٰ نے سرحدی اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ ریلیف اَقدامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ نے سرحدی اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ ریلیف اَقدامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا

جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ سرحد پار گولہ باری کے پیش نظر سرحدی اضلاع میں جاری ریلیف کارروائیوں اور تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیرناصر اسلم وانی، وزیر خوراک، شہری رسدات و امور صارفین ستیش شرما، کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنران، جموں، کٹھوعہ، سانبہ، پونچھ، راجوری، بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے ضلع ترقیاتی کمشنروں، پرنسپل جی ایم سی جموں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں صوبائی کمشنر کشمیروِجے کمار بدوری نے وزیر اعلیٰ کو انخلا کی کوششوں، ٹرانسپورٹ اِنتظامات اور پناہ گزین کیمپوں میں خوراک، صحت سہولیات اور بچوں کے لئے تفریحی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری دی۔ کیمپوں میں سہولیات کے مؤثر انتظام کے لئے نوڈل افسران بھی تعینات کئے گئے ہیں۔مختلف سرحدی اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے زمینی صورت حال، اِنخلا کی منصوبہ بندی، طبی تیاری، عوامی تک رَسائی اور ضروری اشیاء کی دستیابی سے متعلق وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ حساس دیہات کی نشاندہی، بے گھر اَفراد کی تعداد ،پناہ گاہ، خوراک، اَدویات اور بیداری مواد کی فراہمی جاری ہے جس میں ویڈیو اور آڈیو پیغامات کے ذریعے لوگوںکو خبردار کیا جا رہا ہے۔متاثرہ اضلاع میں کنٹرول روم فعال کئے گئے ہیں اور سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کیا جا رہا ہے۔ عوامی تحفظ کے لئے سیکورٹی اِنتظامات اور فورسز کی تعیناتی سے متعلق تفصیلات بھی دی گئیں۔وزیر اعلیٰ نے پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں سے ہنگامی حالات میں طبی عملے، سہولیات اور ایمبولینس خدمات کی دستیابی پر بھی بات چیت کی۔اُنہوںنے مؤثر اور قابلِ اعتماد عوامی مواصلات پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی کہ نچلی سطح پر بروقت اور درست معلومات کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔وزیرا علیٰ نے سیکورٹی پروٹوکول کے تحت بلیک آؤٹ کے دوران سرحدی دیہات میں سولر لائٹس بند رکھنے کی ہدایت بھی دی۔اُنہوں نے ضلعی سطح پر ہنگامی فنڈز کی دستیابی اور اِستعمال کے بارے میں اِستفسار کیا اور ہدایت دی کہ ضروری اشیاء فوری طور پر خریدی جائیں تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔