In the cities and villages of the valley, stray dogs are a bane for people

وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعدادپر عوامی حلقے فکر مند

گزشتہ 10 سالوں میں وادی میں 58,000 سے زائد لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا ہے

سرینگر//وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی جانب سے انسانوں پر بڑھتے حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ آوارہ کتوں کی اس بڑھتی تعداد کو قابو کرنے کیلئے آوارہ کتوں کی نسبندی کو عملانا ناگزیر بن گیا ہے ۔ انہوںنے کہا ہے کہ اس سے کتوں کی بڑھتی تعداد پر کافی حد تک روک لگ سکتی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی جانب سے انسانوں پر بڑھتے حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے کہا کہ وادی میں آوارہ کتوں کی لعنت کو روکنے کے لیے نس بندی اور اینٹی ریبیز ویکسینیشن کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ’’کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن مؤثر طریقے سے ان کی آبادی کو کنٹرول کرے گی، ریبیز کو روکے گی اور ان کے حملوں کو کم کرے گی۔انہوںنے کہا کہ آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول میں لانے کے لیے نس بندی ہی پیدائشی کنٹرول کا واحد سائنسی اقدام ہے۔ادھر ماہرین نے مزید کہا کہ ’’عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تجویز کیا ہے کہ کتوں کی نس بندی کا پروگرام صرف اس وقت کامیاب ہوگا جب فاسٹ ٹریک موڈ پر کیا جائے ’’ڈبلیو ایچ او کے معیارات تجویز کرتے ہیں کہ تقریباً 70 فیصد کتوں کو تین ماہ کے اندر بانجھ کر دیا جائے۔ ماہرین نے کہا کہ آوارہ کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن انسانی ریبیز کے خطرے کو کم کرے گی۔”ریبیز کی منتقلی کو روکنے کے لیے، کتے کی 70 فیصد آبادی کو ویکسینیشن کرنے کی ضرورت ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ “کتے کی ویکسینیشن کے ذریعے ریبیز کی منتقلی کی روک تھام زندگیوں کو بچانے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔انہوںنے کہا کہ نسب بندی اور ویکسین شدہ کتے غیر جارحانہ اور ریبیز سے پاک ہوں گے ۔اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی آبادی بتدریج کم ہوتی جائے گی ۔ماہرین نے کہا کہ نس بندی کے بڑے پروگرام اور ویکسینیشن کی عدم موجودگی میں وادی میں آوارہ کتوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور لوگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔”ہر روز لوگوں کی ایک بڑی تعداد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہو رہی ہے۔آوارہ کتے سڑکوں پر دھاوا بول رہے ہیں، کاروں کا پیچھا کر رہے ہیں، سائیکل سواروں کو نیچے اتار رہے ہیں اور اکثر پیدل چلنے والوں اور اسکول کے بچوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ برسوں میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 10 سالوں میں وادی میں 58,000 سے زائد لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا ہے۔ ہر سال جی ایم سی سری نگر میں کتے کے کاٹنے کے 4 سے 5 ہزار واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ متاثرین ریبیز سے مر چکے ہیں کیونکہ غیر ویکسین شدہ آوارہ کتے مہلک بیماری کا ممکنہ ذریعہ ہیں۔