پاکستان کو سبق سکھایا جانا چاہئے والا فاروق عبد اللہ کا بیان خوش آئند ہے لیکن انہیں اس پر ثابت قدم رہنا چاہئے / سنیل شرما
سرینگر // پہلگام دہشت گردانہ حملے کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا کی بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ سیاح کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔سی این آئی کے مطابق بانڈی پورہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ حکومت ہند 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ملوث افراد کو نہیں بخشے گی،شرما نے کہا ’’ یہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا ایسا واقعہ ہے جس میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیاح کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، وہ اب خوفزدہ اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ 22 اپریل کو جو کچھ ہوا وہ انسانیت کی تذلیل تھا‘‘۔متاثرین کو جس طرح قتل کیا گیا اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’شوہر کو اس کی بیوی کے سامنے گولی مارنا، بیٹے کے سامنے باپ کو قتل کرنا، اس سے برا کوئی عمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت ہند مجرموں کو کسی بھی قیمت پر نہیں بخشے گی۔ شرما نے کہا ’’ اگر میں یہ بات بانڈی پورہ کے ایک چھوٹے سے کونے سے کہتا ہوں تو بھی میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ مجرموں کو مار کر دفن کیا جائے گا ۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے واضح کیا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے قصورواروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ شرما نے مزید کہا’’جو بھی اس طرح کے واقعات کو جاری رکھنا چاہتا ہے اسے بھی وہی انجام ملے گا۔ یہ ہمارا حلف ہے‘‘۔نیشنل کانفرنس لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے تبصرے پر شرما نے کہا کہ وہ عبداللہ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔ شرما نے کہا’’ پچھلے چند سالوں میں، انہوں نے چین، پاکستان کی، پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی زبان میں بات کی ہے۔ کبھی انہوں نے کہا کہ مودی کو دفعہ 370 کو ختم کرنے کیلئے دس جنم درکار ہوں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ ایک سینئر لیڈر ہیں اور میں اتنا تجربہ کار نہیں ہوں، لیکن لوگوں کو ان کے بیانات کی تاریخ کو دیکھنا چاہیے اور خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ایسے بیانات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔شرما نے کہا کہ عبداللہ کا تازہ ترین بیان کہ پاکستان کو سبق سکھایا جانا چاہیے، خوش آئند ہے لیکن ان سے ثابت قدم رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے پاکستان کے خلاف ایسا موقف اختیار کیا ہے جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تو اس بیان پر قائم رہیں ۔










