کنٹونمنٹ علاقوں میں شادی بیاہ کیلئے جگہ کا بحران

کنٹونمنٹ علاقوں میں شادی بیاہ کیلئے جگہ کا بحران

مقامی شہری کمیونٹی ہالوں سے محروم، عوامی مشکلات میں اضافہ

سرینگر//سرینگر کے بادامی باغ کنٹونمنٹ کے تحت آنے والے نواحی علاقوں میں کمیونٹی ہالز کی عدم موجودگی ایک سنگین عوامی مسئلہ بن چکی ہے، جس سے مقامی آبادی کو شادی بیاہ اور دیگر اہم تقاریب کے انعقاد میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ بٹوارہ، شیو پورہ، یتو محلہ، اندر نگر، اقبال کالونی، سونہ وار اور ڈار محلہ جیسے علاقوں پر مشتمل اس کنٹونمنٹ زون کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، تاہم ان میں سے کسی بھی علاقے میں مناسب کمیونٹی ہال موجود نہیں ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی تقریب کا انعقاد کرنا ہو تو انہیں سڑکوں، کھلے میدانوں یا خالی اراضی پر عارضی خیمے لگانے پڑتے ہیں، جو کہ موسمی حالات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بارش اور سردیوں کے موسم میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات مجبوری میں تقریب کو منسوخ کرنا یا محدود گھریلو جگہوں پر منعقد کرنا پڑتا ہے۔یہ تمام علاقے انتخابی حلقہ لالچوک (سابقہ سونہ وار) میں آتے ہیں، لیکن انتظامی طور پر بادامی باغ کنٹونمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں ہونے کی وجہ سے سرینگر میونسپل کارپوریشن یہاں کوئی سہولیات فراہم نہیں کرتی۔ نتیجتاً ان علاقوں کو سڑکوں، نکاسی آب، اور دیگر بنیادی بلدیاتی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ سماجی تقریبات کیلئے بھی بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔مقامی افراد نے بتایا کہ کچھ برس قبل یتو محلہ میں ایک کمیونٹی ہال کے لیے زمین کی نشاندہی کی گئی تھی اور بورڈ حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ جلد ہی تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا، لیکن تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اقبال کالونی کے رہائشی مدثر احمد نے بتایا کہ یہ مسئلہ ڈائریکٹر جنرل کنٹونمنٹ بورڈ کی نوٹس میں بھی لایا گیا تھا، لیکن صرف زبانی وعدوں پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں سرینگر میونسپل کارپوریشن کے تحت آنے والے علاقوں میں متعدد کمیونٹی ہالز موجود ہیں، وہیں کنٹونمنٹ حدود میں بسنے والے شہری ایک بھی ہال سے محروم ہیں۔ مقامی آبادی نے حکومت، کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان علاقوں میں فوری طور پر مناسب کمیونٹی ہالز تعمیر کیے جائیں تاکہ عوام کو شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات کے دوران درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔