او بی سی طالبات کی تعلیم کا مستقبل داو پر

او بی سی طالبات کی تعلیم کا مستقبل داو پر

سرکار اور تعمیراتی ٹھکیدار کے درمیان رسہ کشی سے زیر تعمیر ہوسٹل تعطل کا شکار

سرینگر//سرکار اور تعمیراتی ٹھکیدار کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے دیگر پسماندہ جات طبقے کی طالبات کیلئے چرار شریف میں زیر تعمیر ہوسٹل میں تعمیراتی کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ڈگری کالج چرار شریف بڈگام میں او بی سی طالبات کیلئے بنائے جانے والے ہوسٹل کی تعمیرات کو ایک تنازعے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ یہ معطلی او بی سی طالبات کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔یہ ہوسٹل 94.04 لاکھ روپے کی لاگت سے بنایا جا رہا تھا اور تکمیل کے آخری مراحل میں تھا،تاہم اچانک کام کو روک دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہلی منزل کی چھت مکمل ہو چکی تھی، اور دونوں منزلوں کیلئے ریمپ(چڑائی) اور ڈیوڈھی بھی تیار تھی۔ دونوں منزلوں کی اینٹوں کا کام 95فیصد مکمل تھا، اور بیرونی پلستر بھی مکمل ہو چکاتھی۔ انہوں نے مزید بتایا کیہ زمینی منزل کا مٹی کا کام 95فیصد مکمل ہو چکا تھا۔تاہم، کام اس وقت روک دیا گیا جب ٹھیکیدار نے عدالت سیحکم امتنائی حاصل کر لیا۔ سرکار کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ پچھلے ٹھیکیدار نے کام کو مقررہ وقت میں مکمل نہیں کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں جموں کشمیر پروجیکٹ کنسکٹریکشن کارپوریشن(جے کے پی سی سی )نے تمام جمع شدہ رقم ضبط کر لی اور منصوبے کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔محکمہ سماجی بہبود کے نظامت کے پبلک انفارمیشن افسر نے حق معلومات قانون کے تحت ایک درخواست میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تعمیراتی کام صرف اس صورت میں دوبارہ شروع ہوگا جب حکم امتنائی کو ختم کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ 94.04 لاکھ روپے کی رقم 2025-26کے کیپیکس بجٹ میں رکھی گئی ہے تاکہ ہوسٹل کو فعال بنایا جا سکے۔او بی سی طالبات نے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو سکے اور وہ ہوسٹل کی سہولت سے جلد استفادہ حاصل کر سکیں۔ طالبات کا کہنا ہے کہ ہوسٹل کی عدم تکمیل ان کے تعلیمی سفر میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، کیونکہ یہ سہولت ان کیلئے ایک ضروری ضرورت ہے، خاص طور پردور دراز علاقوں سے آ کر تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کیلئے اہم ہے۔چرار شریف کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی او بی سی طالبات نے اس ہوسٹل کی تعمیر کو اہم قرار دیا تھا۔ایک طالبہ نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اس سے نہ صرف ان کی رہائش کی سہولت میسر آتی، بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے او بی سی طبقے کی طالبات کیلئے ایک محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی توقع تھی۔مقامی شہریوں اور تعلیمی حلقوں نے بھی اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے کو جلد حل کرے تاکہ طالبات کی تعلیم اور ان کی سہولتوں میں مزید رکاوٹ نہ آئے۔