kiran rijiju

جموں کشمیر کو ریاستی درجے کی بحالی کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے

مرکز نے جو عوام کے ساتھ وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو

سرینگر///سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا تاہم اس کیلئے مرکز نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ یہ لوگوں کی امنگوں کی بات ہے اورمودی کی قیادت میں مرکزی سرکار ہر وہ کام کرنے کی عہد بند ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی سرکار جموں کشمیر کی مجموعی تعمیر و ترقی کیلئے پر عزم ہے اور ملک کو سب سے بڑی طاقت بنانے کیلئے جموں کشمیر کا بھی حصہ ہوگا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر کرن رجیجو نے ہفتہ کو اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کیا جائے گا لیکن اس عمل کے لیے ایک قطعی ٹائم لائن فراہم کرنے سے روک دیا گیا۔ اپنے کشمیر کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، رجیجو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ دونوں نے پہلے ہی یقین دہانی کرائی ہے کہ “مقررہ وقت پر” ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا۔ تاہم، جب ٹھوس ٹائم فریم کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تو اس نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رجیجو نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ ریاست کی حیثیت کو مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا، وزیر، جن کے پاس پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے قلمدان ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا دورہ سیاسی یا گورننس کے معاملات کے بجائے مرکزی بجٹ سے متعلق بات چیت پر مرکوز تھا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور منتخب وزیر اعلیٰ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر سوالوں کو حل کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر فی الحال ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے۔انہوںنے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر فی الحال UT کے انتظامی سربراہ ہیں، لیکن ہمارے پاس ایک منتخب حکومت بھی ہے جو حال ہی میں تشکیل دی گئی ہے۔اقلیتی اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بجٹ سال 2025 – 26 کو تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ سے مڈل کلاس سے وابستہ لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سال 2047 کے وکشٹ بھارت کے لئے ایک بنیاد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ لوگوں کی توقعات سے بالاتر ہے۔موصوف مرکزی وزیر نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو یہاں ‘بجٹ پر چرچا’ کے موضوع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاہمارے سینئر وزرا خود ریاستوں کے دارلخلافوں اور اہم شہروں میں جا کر میڈیا کے ساتھ بات کر رہے ہیں تاکہ عوام تک بجٹ کی اہم باتوں کو پہنچایا جا سکے’۔ان کا کہنا تھا: ‘بجٹ سال 2025 – 26 کو سال 2047 تک ملک کو وکشٹ بھارت بنانے کی ایک بنیاد ہے اس میں انفراسٹرکچر، مڈل کلاس، کسانوں، خواتین اور بچوں کے لئے خاص طور پر بڑی پیش کش کی گئی ہے’۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ لوگوں کی توقعات سے بالاتر ہے۔مسٹر رجیجو نے کہا: ‘جب ملک میں سال 2014 میں ہماری سرکار بنی تو سالانہ 2 لاکھ روپیے تک ٹکیس میں چھوٹ تھی ہم نے اس کو بڑھا کر 7 لاکھ روپیے کر دیا’۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نے اس کو 7 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کر دیا جو اب نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا میں بحث کا باعث بن گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب ماہانہ ایک لاکھ روپیہ کمانے والے کو ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں ادا کرنا ہے۔موصوف مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں سادہ زندگی گذارنے والے لوگوں کو اتنا بڑا ریلیف آج تک کبھی نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں اس قدر ٹیکس رکھا گیا ہے کہ مڈل کلاس کے لوگ اچھی طرح سے اپنی زندگی گذار سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر خاص طور پر کشمیر میں جو لوگ چھوٹے چھوٹے تجارت کر رہے ہیں جیسے سیب اگاتے ہیں یا دستکار ہیں ان کو بھی بہت بڑی راحت دی گئی ہے۔