dooran

سرکا ر کی جانب سے جسمانی طو رپر نا خیز افراد کو نظر انداز کرنے کے بعد تنگ آمد

جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن نے 23فروری کو وزیر اعلیٰ رہائشگاہ کے باہر دھرنا دینے کا کیا اعلان

سرینگر// جموں کشمیر سرکار کی جانب سے نظر انداز کرنے کے بعد جسمانی طو ر نا خیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن نے 23فروری کو احتجاج کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک مارچ کا اعلان کیا ہے ۔ سی این آئی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے جموں وکشمیر حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار پر بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے جسمانی طور پر نا خیز افراد کو ہمیشہ نظرانداز کیا اور کبھی کبھار ہمیں لالی پاپ بھی دیا گیا مگر وہ سب زمینی سطح پر کہیں عملایا نہیں گیا ۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے حق میں کوئی روڈ میپ آج تک تیار نہیں کیا جس سے جسمانی طور معذور لوگوں کے مسئلہ مراحل وار حل ہوتے ہیں تاہم اس کے برعکس جب ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں خالی یقینی دہانی دلائی گئی اور پھر اس پر کوئی عمل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ہم میں ایسے پڑھے لکھے نوجوان ہے جو روز روٹی کے طلبگار ہے تاہم جب بھی ایس ایس آر بی کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن نکل بھی جاتی مگرہارزنٹل ریزرویشن کی وجہ سے ان لوگوں کو ریکرومنٹ ایجنسیاں ہمشیہ نظر انداز کرتے رہتے ہیں جس کا ثبوت حال میں جو ایس ایس آر بی نے آئی سی ڈی ایس سکیم کے تحت سپر وارزئر پوسٹ نکالے گئے جس میں ہمارے لکھے پڑھے بچیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے بٹ نے مزید کہا کہ حال ہی میں جو بجٹ مرکزی حکومت نے پیش کیا اْس میں بھی ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے اور اب جموں و کشمیر حکومت کو بھی 3 مارچ کو بجٹ پیش کرنی ہے ہمیں لگتا ہے شاید اس میں بھی ہمیں نظر انداز کیا جائے کیونکہ جب سے عمر عبد اللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس کی حکومت برسر اقدار میں آئی تب سے ابھی تک کسی کابینہ میٹنگ میں یا کسی اور میٹنگ میں ہمارے لیے کوئی بھی بات نہیں کی گئی جو وعدئے کیے گئے وہ بھی پورے نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہا ’’ اب جموں و کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا 23 فرواری 2025 برروز سوموار ایک زور دار احتجاج کیا جائے اس دن پہلے ہم پریس کانونی سرینگر جمع ہو جا ئے گے پھر وہاں سے مارچ کر کے وزیر اعلیٰ کے رپائشگاہ کے سامنے دھرنا دے گے‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس دوران کوئی واقعہ پیش آئے گا تواس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ بٹ نے مزید کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی وزیر اعلی عمر عبد اللہ اور سوشل ویلفیر وزیر سکینہ ایتو کو درخواست دیا تھا تاکہ وہ ہمارے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے جس میں کوئی حل نکالا جائے مگر بدقسمتی کی وجہ سے آج تک ہمیں اجازت نہیں دیا گیا ہے ۔