یہ وقت ہے کہ ہمیں امن قائم کرنا چاہیے،ہمارے بچے بے روزگار ،جب امن نہیں ہے تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا
سرینگر // جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے سے ملی ٹنسی ختم نہیں ہوگی بلکہ اسے عوام کی حمایت کی ضرورت ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہمیں امن قائم کرنا چاہیے۔ صرف امن ہی یہاں کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارے بچے بے روزگار ہیں۔ جب امن نہیں ہے تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ سی این آئی کے مطابق صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کا مسئلہ کئی سالوں سے موجود ہے۔ انہوں نے کہا’’اگر ریاست کا درجہ بحال ہو جائے اور ہمیں سب کچھ مل جائے گا، لیکن کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے یہاں دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔ جو لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ہیں کہ یہاں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، ان سے پوچھیں کہ یہ اب بھی ہے یا نہیں؟۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کل دو فوجی ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔ ’’یہ کہاں سے آیا؟ ہمیں جموں و کشمیر میں معمولات کو بحال کرنے کے لیے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہمیں امن قائم کرنا چاہیے۔ صرف امن ہی یہاں کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارے بچے بے روزگار ہیں۔ جب امن نہیں ہے تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان قبل از انتخاب اتحاد دہلی اسمبلی انتخابات میں مختلف نتائج لا سکتا تھا۔انہوں نے کہا ’’ انڈیا بلاک کی روح اب بھی ایک جیسی ہے۔ لیکن دہلی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ اگر عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان مناسب سمجھوتہ ہوتا تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ ہمیں ملنا ہے اور ان مسائل پر بات کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔










