ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ نے شراکت داروں اور بی ایس ایف حکام کے ساتھ ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا

ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ نے شراکت داروں اور بی ایس ایف حکام کے ساتھ ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا

کٹھوعہ//ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ ڈاکٹر راکیش منہاس کی صدارت میں اُن کے دفتر کے چیمبر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جس میں ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ غیر کاشت شدہ زمین پر کاشت کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں سی پی او رنجیت ٹھاکر ، چیف ایگری کلچر آفیسر سنجیو رائے، تحصیل دار مرہین لیکھ راج اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اَفسران نے شرکت کی۔دوران میٹنگ سرحد کے قریب غیر کاشت شدہ زمین کے بڑے حصے کو اِستعمال کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ بی ایس ایف اور ضلعی اِنتظامیہ تکنیکی مدد فراہم کریں گے اور کسانوں کو علاقے میں مناسب فصلیں کاشت کرنے کے قابل بنانے کے لئے ضروری مدد فراہم کریں گے۔تحصیل دار مرہین کوبغیر کسی رُکاوٹ کے زرعی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لئے زیرو لائن کے قریب باڑ کے پار زمین رکھنے والے کسانوں کی آسان اور بغیر پریشانی آواجاہی کے لئے عملی شیڈول تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ ڈاکٹر راکیش منہاس نے مناسب فصلوں کے اِنتخاب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسے اِختیارات کی ضرورت پر زور دیا جو کسانوں کے لئے فائدہ مند ہوں اور اِس بات کو یقینی بنانے ہوئے کہ بی ایس ایف کی آپریشنل ضروریات پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اُنہوں نے چیف ایگری کلچر آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ اِس عمل میں تمام فائدہ اُٹھانے والے کسانوں کو شامل کریں تاکہ اس اقدام کو جامع اور مؤثر بنایا جاسکے۔بی ایس ایف حکام نے کاشت کاری کے عمل کو آسان بنانے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کی تاکہ کسان اَپنی زمین کا فائدہ اُٹھا سکیں جو برسوں سے خالی پڑی ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ ضلعی اِنتظامیہ نے بی ایس ایف کے تعاون سے سرحدی علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لئے پہلے ہی اہم اَقدامات اُٹھائے ہیں جس سے کاشتکار برادری کے لئے معاشی ترقی اور غذائی تحفظ میں مدد ملی ہے۔