سری نگر// مرکزی وزیر مملکت برائے مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای)، محنت و روزگار شوبھا کرندلاجے نے سیڈکو(ایس آئی ڈِی سی او) اِنڈسٹریل کمپلیکس اومپورہ بڈگام میں 100 بستروں پر مشتمل ایمپلائز سٹیٹ اِنشورنس کارپوریشن (اِی ایس آئی سی) ہسپتال کی تعمیر کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔یہ ہسپتال160کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہوگا اور اِس میں او پی ڈی ، آئی پی ڈی ، آئی سی یو ، وارڈز ، تشخیصی لیبارٹریوں ، آپریشن تھیٹر ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی سہولیات کے علاوہ ایک آزاد سب سٹیشن ہوگا۔ہسپتال میں سرجری اور نفسیاتی شعبے قائم کئے جائیں گے جن میں ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ عملے کو چوبیس گھنٹے دستیاب کیا جائے گا۔مرکزی وزیر موصوف نے جائزہ لینے کے دوران ہسپتال کو جموں و کشمیر میں صحت نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لئے ایک اور قدم قرار دیا اور کہا کہ یہ ہسپتال اِی ایس آئی سی کے تحت عالمی معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ جموں و کشمیر میں احتیاطی ، بنیادی اور ثانوی صحت نگہداشت کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جاسکے۔اُنہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیڈ لائن سے پہلے اس پروجیکٹ کو مکمل کریں اور ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں جائے گا کیوں کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں اَمن ، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بہت خواہشمند ہے۔ اُنہوں نے ہسپتال میں 23 سپیشلٹیز کے لئے زیر تعمیر تمام صحت سہولیات کا دورہ کیا ۔شوبھا کرندلاجے نے بتایا کہ اِی ایس آئی ایکٹ کے تحت جموں و کشمیر میں 6000 سے زیادہ صنعتیں اور اِدارے ہیں اور جموں برانچ آفس اور کٹھوعہ، سانبہ، اودھمپور، کٹرا اور سری نگر میں ایک لاکھ 33 ہزار سے زیادہ بیمہ شدہ اَفراد اور ان کے زیر کفالت افراد کو فوائن فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ ہسپتال اِی ایس آئی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کافی آبادی کی خدمت کرسکتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال پورے علاقے کی صحت سہولیات کو بہتر بنائے گا کیوں کہ یہ صحت کی جدیدسہولیات سے آراستہ ہوگا اور اِس میں او پی ڈی ، آئی پی ڈِی ، آئی سی یو ، وارڈز ، تشخیصی لیبارٹریوں ، آپریشن تھیٹر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی سہولیات کے علاوہ ایک آزاد سب سٹیشن بھی ہوگا۔ اُنہوں نے کہا، ’’اس سہولیت میں سرجری اور نفسیاتی ماہرین چوبیس گھنٹے دستیاب ہوں گے۔توقع ہے کہ اس ہسپتال سے ہزاروں بیمہ شدہ صنعتی کارکنوں اور ان کے کنبوں کو فائدہ ہوگا جو ای ایس آئی ایکٹ کے تحت نامزد تقریباً 600فیکٹریوں اور اِداروں سے وابستہ ہیں۔ ای ایس آئی سی سسٹم تمام طبی اور ہسپتال کے اخراجات کا احاطہ کرے گا جس میں علاقائی نگہداشت کے ہسپتال میں حوالہ جات کے ساتھ ساتھ موت اور معذوری کے لئے اِنشورنس کوریج کی ایک رینج بھی شامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لئے ہسپتال کو میٹرو شہروں کے ہسپتالوں کی طرز پر تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ عناصر کو سستی قیمت پر بہتر صحت خدمات فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضرورت مندوں کے لئے رسائی کو یقینی بنانے کے لئے علاج کے اخراجات کو محدود کیا جائے گا۔ایک آفیسر نے رسائی اورقابل استطاعت کے بارے میںمسائل کو دور کرنے کے لئے کہا کہ ہسپتال کو میٹرو شہروں میں ہسپتالوں کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی کو اعلیٰ معیار کا علاج فراہم کیا جاسکے۔ آفیسر نے کہا،’’اس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو معقول قیمت پر بہترین صحت خدمات فراہم کی جائیں اورعلاج کے اخراجات کو اِس طرح سے محدود کیا جائے کہ ضرورت مند اَفراد کو فائدہ پہنچے ۔ ‘‘آفیسرنے بتایا کہ سیڈکو نے ہسپتال کی تعمیر کے لئے40 کنال اَراضی حاصل کی ہے جسے لیز پر دی جائے گا۔ اُنہوں نے کہا،’’اِس سہولیت کو کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا کہ ایمرجنسی ایمرجنسی حالت میں مریضوں کی دیکھ ریکھ مؤچر طریقے سے کی جاسکے اور اس میں ضروری عملے، سازوسامان اورآپریشن کے کمروں کی مناسب تعداد موجود ہوگی ۔ ہسپتال میں تمام ضروری عملہ اور سازوسامان کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں آپریشن کے کمرے موجود ہوں گے تاکہ مریضوں کو بہرین صحت نگہداشت فراہم کی جاسکے ۔ ہسپتال میں تقریباً 23 ماہرین دستیاب ہوں گے۔‘‘جائزہ کے دوران ای ایس آئی سی جموں و کشمیر کے ریجنل ڈائریکٹر دشنت پانڈے کے علاوہ سی پی ڈبلیو ڈی کے انجینئران اور کنٹریکٹر،جوائنٹ ڈائریکٹر آئی ای ڈی ایس بھی موجود تھے۔










