کلچرل اکیڈیمی نے آل اِنڈیا اُردو مشاعرہ کا اِنعقاد کیا

کلچرل اکیڈیمی نے آل اِنڈیا اُردو مشاعرہ کا اِنعقاد کیا

جموں//جموں و کشمیر اکادمی برائے آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجزنے شام یہاں جموں کے ابھینو تھیٹر میں مختلف زبانوں کے ادیبوں کی موجودگی میں باوقار آل اِنڈیا اردو مشاعرے کا اِنعقاد کیا۔ اِس موقعہ پرپرنسپل سیکرٹری برائے کلچر و سکولی تعلیم سریش کمار گپتا مہمان خصوصی تھے۔سریش گپتا نے اَپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مشاعرے کا بنیادی مقصد شاعری کی عالمگیر زبان کے ذریعے ہندوستان کے تنوع کی تقریب منانا ہے جو مختلف پس منظر اور خطوں کے لوگوں کو جوڑنے کے لئے ایک پل کا کام کرتا ہے۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شاعری ہمارے جیسے کثیر لسانی ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقائی آرٹ، ثقافت اور زبانوں کے مجموعی فروغ کے لئے کلچرل اکیڈیمی میں 31 نئی سکیمیں متعارف کی گئی ہیں اور مصنفین اور فن کاروں پر زور دیا کہ وہ اِن سکیموں سے فائدہ اُٹھائیں۔ سیکرٹری کلچرل اکیڈیمی ہرویندر کور نے تجرکار شاعروں، ادبی شخصیات اور معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں کہا کہ 1960ء میں شروع ہونے والا یہ پروگرام ایک سالانہ روایت بن چکا ہے اور اردو ادب اور شاعری کے فروغ کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بنا ہوا ہے۔اس سال کا مشاعرہ 76 ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر منعقد کیا گیا ہے جس میں جموں و کشمیر اور ملک کی دیگر ریاستوں اور یوٹیزکے مشہور شعرأنے شرکت کی ۔ اُنہوں نے تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، نئے خیالات کو پروان چڑھانے اور ہمارے ثقافتی اور لسانی ورثے کے تحفظ میں اس مشاعرے جیسی ادبی تقریبات کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِس طرح کے اِجتماعات نہ صرف اَدبی صلاحیتوں کی تقریب مناتے ہیں بلکہ متنوع ثقافتی روایات کے درمیان تعلقات کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔اِس مشاعرے میں چندر بھان کھالؔ (دہلی)، راجیش ریڈیؔ (ممبئی)، منیش شکلاؔ (لکھنؤ)، ڈاکٹر سنیتا رینہؔ (دہلی)، موہن منتظرؔ (اُتراکھنڈ)، مونیکا دہلویؔ (دہلی)، امجد خان امجدؔ (دہرادون)، دیپک گپتا ؔ(فرید آباد)، اسد مہتاب اسدؔ (ممبئی) اور کرشن کمار تورؔ (دھرم شالہ) شامل ہیں۔مقامی شعرأ نے بھی اَپنے دِلفریب کلام سے مشاعرہ کو رونق بخشی ۔ شرکأ میں پرتپال سنگھ بیتابؔ (جموں)، ڈاکٹر لیاقت جعفریؔ (جموں)، سہیل صدیقؔ (بھدرواہ)، ممتاز احمدؔ (راجوری)، ڈاکٹر شفق سوپوریؔ (سری نگر)، گلزار جعفرؔ (کپواڑہ)، شبینہ آراؔ (کولگام)، قاضی اخترؔ (سری نگر) اور ڈاکٹر طاہر تنویر ؔشامل تھے۔ ہر شاعر نے اپنی فکر انگیز شاعری سے سامعین کو محظوظ کیا۔کلچرل اکیڈیمی یوم جمہوریہ کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر 30 ؍جنوری 2025 ء کو ابھینو تھیٹر جموں میں ڈوگری کوی سمیلن کی میزبانی بھی کرے گا۔ یہ تقریب خطے کے لسانی تنوع اور ادبی خوشحالی کا جشن منانے کا ایک اور موقعہ ہے۔