farooq abdullah

جمہوری نظام نے افسرشاہی اور لافتہ شاہی کے طویل دور کا خاتمہ کیا

نیشنل کانفرنس عوام کو راحت پہنچانے کے وعدے پر چٹان کی طرح قائم و دائم/ڈاکٹر فاروق

سرینگر // گڈ گورننس کا راز اور بہتر حکمرانی کی نشاندہی صرف اور صرف عوامی نمائندہ سرکار میںہی مضمر ہے، کیونکہ عوامی سرکار میں لوگوں کے حقیقی نمائندگی ہوتی ہے جو اپنے اپنے حلقہ انتخابات کے لوگوں کے بنیادی مسائل، مشکلات سے واقف ہوتے ہیں اور کہاں کہاں تعمیر و ترقی کی اشد ضرورت ہوتی ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ ماضی میں جتنی بار بھی جموںوکشمیر میں گورنر راج نافذ کئے گئے وہ سب کے سب ناکام ثابت ہوئے۔ سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر حلقہ انتخاب بڈگام کے تین بلاک سویہ بُگ، نارہ بل اور بڈگام کے بزرگ اور سینئر اراکین اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پائیدار ترقی اور مساوی ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، پارٹی کے منشور میں بیان کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے کئے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے موثر حکمرانی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک سنگ بنیاد قرار دیا۔آنے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ تیاریاں شروع کریں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کو امیدواروں کے طور پر نامزد کرنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے نچلی سطح پر جمہوریت میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ متحرک اور جامع نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کارکنوں کو تاکید کہ وہ لوگوں کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں کیونکہ گذشتہ 10برسوں کے دوران یہاں کے عوام کو زبردست مشکلات اور مصائب سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ یہاں کے عوام کو باہری حکمرانوں اور افسران نے اقتصادی اور معیشی بدحالی کیساتھ ساتھ ظلم و ستم کے بھنور میں دکھیلنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جموںوکشمیر میں ایک بار پھر جمہوری نظام کو بول بالا ہو ااور افسرشاہی کساتھ ہی لال فیتہ شاہی دور کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے عوام کو راحت دینے کا وعدہ کیا ہے اور ہم اپنے وعدے پر چٹان کی طرح قائم و دائم ہیں۔