چیف سیکرٹری نے روڈ سیکٹر کی جاری سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے روڈ سیکٹر کی جاری سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

پی ایم جی ایس وائی۔ IV کے تحت تمام غیر منسلک بستیوں کو جوڑنے کیلئے سروے جاری

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں ایگزیکٹیو ایجنسیوں کے انجینئروں نے شرکت کی تاکہ جموںوکشمیر میں بڑے سڑک پروجیکٹوں کو مکمل کرنے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے۔اُنہو ں نے جموں و کشمیر میں ان اہم روڈ کنکٹویٹی لنکس کوپور اکرنے کے سلسلے میں ہونے والی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اِنجینئروں کی صلاحیت کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ وہ ڈیڈ لائن کومؤثر طریقے سے پورا کرسکیں۔چیف سیکرٹری نے سینئراَفسران کو ہدایت دی کہ وہ کاموں کی بروقت پیش رفت اور تکمیل کے لئے خود نگرانی کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سڑک منصوبے اِنتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی تکمیل متعلقہ ایجنسی کے سینئر اَفسران کی نگرانی کے تحت ہونی چاہیے۔اُنہوں نے پی ایم جی ایس وائی۔ IV کے تحت سروے کی جلد تکمیل اور ڈی پی آرز کی تشکیل پر زور دیا تاکہ اس پروگرام کے تحت تمام غیر منسلک بستیوں کو بغیر کسی ناکامی کے ہر موسم میں سڑک رابطے فراہم کئے جاسکیں۔ اُنہوں نے سیکرٹری کو مشورہ دیا کہ وہ اِس عمل کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور ہر گاؤں کے حوالے سے مطلوبہ جامع نیو کنکٹویٹی ترجیحی فہرست (سی این سی پی ایل) مکمل کریں تاکہ ان منصوبوں کو جلد شروع کرنے اور مکمل کرنے کے لئے مناسب ترجیح دی جاسکے ۔ سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی بھوپندر کمار نے اَپنی پرزنٹیشن میں میٹنگ کو پی ایم جی ایس وائی اوّل، دوم اور سوم کے تحت حاصل کی گئی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پی ایم جی ایس وائی آئی کے تحت 17,578 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی گئی ہے جس میں 210 لمبے سپین برجز (ایل ایس بی) کے ساتھ ساتھ سڑک کی لمبائی 657 کلومیٹر اور 7 ایل ایس بی مرحلہ دوم کے تحت مکمل کیا گیاہے اور اِس پروگرام کے تیسرے مرحلے کے تحت ایک ایل ایس بی سمیت 1,248 کلومیٹر سڑک تعمیر کیا گیاہے۔میٹنگ میں پی ایم جی ایس وائی کے اِبتدائی مراحل کے بقیہ کاموں کی تکمیل کے لئے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اُنہوں نے پی ایم جی ایس وائی ۔IVکے رول آئوٹ اور یہاں یو ٹی میں اس کی عمل آوری کے دائرہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں غیر مربوط بستیوں کی فہرست اور ’’گرام سڑک سروے ایپ‘‘ پر ان کے سروے اور بلاک اور ضلع کی سطح پر ہر مجوزہ بستی کے لئے سی این سی پی ایل کی تیاری کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔میٹنگ میں یہ اِنکشاف کیا گیا کہ جموں و کشمیر کو شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ خصوصی زُمرے میں رکھا گیا ہے اور پی ایم جی ایس وائی کے تحت مرکزی حکومت کے ذریعے 90 فیصد تک اِمداد دی جائے گی۔ اِس میں آبادی کے معیار کے لحاظ سے بھی نرمی دی گئی ہے کیوں کہ یہاں کی آبادی کو مقننہ کے ساتھ دیگر ریاستوں اور یوٹیز کے لئے 500 کے بجائے صرف 250 کی آبادی ہونی چاہیے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر کے 1,386 غیر منسلک دیہات میں سے 1,249 دیہات کے حق میں گرام سڑک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور 102 دیہات کو پی ایم جی ایس وائی کے چوتھے مرحلے کے تحت عمل درآمد کے لئے جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔میٹنگ میں سینٹرل روڈ اِنفراسٹرکچر فنڈ (سی آر آئی ایف) کے بارے میں بتایا گیاکہ 2,366 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کردہ 121جاری پروجیکٹوں میں سے اَب تک 1,180 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور سال 2024-25ء کے لئے 41 پروجیکٹوں کے ہدف کے مقابلے میں 21 پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں۔نبارڈ آر آئی ڈِی ایف کے حوالے سے بتایا گیا کہ آر آئی ڈِی ایفXXIV سےXXIX کے تحت 1,098 منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی جو 4,761 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوں گے۔ اِن میں سے 1,246 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور اَب تک 195 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ آر ڈی آئی ایف-XXXکے تحت یو ٹی نے منظوری کے لئے 140 پروجیکٹ پیش کئے ہیں جن کی لاگت تقریباً 949 کروڑ روپے ہے۔میٹنگ میں مالی برس 2024-25ء کے لئے کیپیکس کے تحت رجسٹرڈ مجموعی کارکردگی کے بارے میںبتایا گیا کہ روڈ سیکٹر، نبارڈ، سٹیز اینڈ ٹاؤنز، سی آر آئی ایف، پی ایم جی ایس وائی، برجز پروگرام اور دیگر ترقیاتی شعبوں کے تحت منظور شدہ 3,469 کاموں کے ہدف کے مقابلے میں اَب تک 2,115 کام مکمل ہوچکے ہیں۔ جہاں تک سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ کا تعلق ہے یہ بتایا گیا کہ موجودہ مالی برس کے دوران ترقی کے مختلف شعبوں کے تحت مجموعی طور پر 3,013 کلومیٹر سڑکوںکی میکڈیمائزیش کی گئی۔اِس کے علاوہ رواں مالی برس کے لئے مقرر کردہ 60 کے ہدف کے مقابلے میں 25 پُل بھی مکمل ہوچکے ہیں۔چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں مختلف سکیموں کے تحت بڑے سڑک پروجیکٹوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ان میں سے ہر ایک کی تکمیل کی ممکنہ تاریخوں کے ساتھ ان کی تکمیل کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھا۔ اُنہوں نے ان کی مقررہ تاریخ پر تکمیل کی بھی ہدایت دی تاکہ ان کے لئے طے شدہ ٹائم لائنز میں مزید تاخیر نہ ہو۔