جنگل تیح تیغ ہورہے ہے کارپوریشن اپنی ترقی کے لئے سنجیدہ عوام کی ضرورتوں کوپورا کرنے میں غیرسنجیدہ
سرینگر/ /سرکار نے وادی کشمیر میںآشیانے تعمیرکرنے والوں کو حد سے زیادہ مایوس کردیا ،کسی بھی سیل ڈیپوں سے ضرورت مندوں کوعمارتی لکڑی دستیاب نہیں ہے عوام کے غیض غضب سے بچنے کے لئے محکمہ جنگلات اور فارسٹ کارپوریشن نے شہروں قصبوں میں مسجدوںکوبالن فراہم کیا اور آشیانے تعمیرکرنے والوں کوملک کی مختلف ریاستوں یابیروز ممالک سے لائی جانے والی بوسیدہ لکڑی استعمال کرنے پرمجبور ہونا پڑ رہاہے اور اپنی جنگلوں کی عمارتی لکڑی انہیں فراہم کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ طوالت غیرسنجیدگی کامظاہراہ کیاجارہاہے جنگل تیح تیغ ہورہے ہے ا سکی فکر محکمہ جنگلات کونہیں فارسٹ کارپوریشن دن دوگنی را ت چوگنی ترقی کرے ا سکی فکرہے جوکارپوریشن الف سے لے کر ے تک بدعنوانیوں بے ضابطگیوں میں ڈھوبی ہوئی ہے ا سے کبھی یہ نہیں پوچھاگیاکہ پچھلے چھ برسوں کاریکارڈ سامنے لائے اور انکشاف کرے کہ کتنے ضرورت مندوںکوعمارتی لکڑی فراہم کرے او رجنگلوں سے کتنے سو مکعیب فٹ عمارتی لکڑی نکالی گئی ۔اے پی آئی نیوز کے مطا بق کارپوریشن وہی اچھی ہے جوخود کمائے اوردسروں کوبھی کھلائے ۔تاہم وادی کشمیر میں اس کااثر الٹاہے۔یہاںکارپوریشن خود کھاتی ہے اورعوام کو ترسانے پرمجبور کرتی ہیں۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تنخواہیں حاصل کرنے والے بابو لوگ عوام کوکوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن ایک ایسا ادارہ ہے جس سے محکمہ جنگلات کی بہن تاہم جدیدزبان میں چچیرہ بھائی قرا ردیاجارہاہے او ریہ چچیرہ بھائی اپنے حصے کو حاصل کرنے میںمر مٹنے کے لئے تیار ہے ۔مگر دوسروں کے حصے کوہڑپ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہی ہے۔ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کو2015میں ا س وقت کے جنگلات وماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے زبانی طور ضرورت مندوں کوعمارتی لکڑی فراہم کرنے کاحکم سنایااور یہ حکم تب سے جاری ہے ۔این این وہرہ ستپال ملک سے لیکر اب تک تین گورنر تین لیفٹننٹ گورنر جموںو کشمیرمیں اپنی خدمات انجام دے کرکچھ چلے گئے ،جبکہ منوج سنہا اب بھی اپنی خدمات احسن طریقے سے انجام دے رہے ہے مگر سابق وزیرجنگلات زبانی حکم نامہ اب بھی پھتر کی لیکربن گیاہے کہ ضرور تمندوںکوسٹیٹ فارسٹ کارپوریشن عمارتی لکڑی فراہم کریگی ۔کارپوریشن دوہزار 2015سے لیکر اب تک عوام کوراحت پہنچانے میں ناکام ثابت ہوگئی ہے ۔جموںو کشمیرکے دس اضلاع میں رہنے والے لوگ اس کارپوریشن سے خفاہے ناراض ہیں کہ یہ عوام کی تواقعات پرکھرا نہ تو اتررہی ہے اور نہ ہی عام کی ضرورتوں کواس کارپوریشن کواحساس ہے ۔محکمہ جنگلا ت نے اپنے دور میں جب وہ عمارتی لکڑی ضرورت مندوں کوفراہم کرتا تھاہر ایک علاقے میں سیل ڈیپوں قائم کیاتھاکارپوریشن نے نئے حکم نامے جاری کئے اب چالیس سے پنتالیس اور پچس دیہات پرمشتمل لوگوں کے لئے ایک سیل ڈیپوں قائم کیاگیاہے اور اس طرح پوری وادی میں زیادہ سے زیادہ پانچ سیل ڈیپوں سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن نے قائم کئے ہے جہاں سینکشنیں حاصل کرنے والوں کوعمارتی لکڑی ان کی ضرور ت کے مطابق فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔سیل ڈیپوں خالی پڑے ہوئے ہے پچھلے پانچ برسوں سے کارپوریشن نے جنگلوں سے کتنی مقدار میں عمارتی لکڑی حاصل کی ہے او رفروخت کی ہے عوام کوا سکی کوئی جانکاری فراہم نہیں کی گئی۔کارپویرشن نفع یانقصان میں ہے یہ بھی کسی کومعلوم نہیں ۔ہاں عوام پروہ کتناظلم کرے اس کے بارے میں کبھی بھی سرکار سنجیدہ نوٹس نہیں لے رہی ہے سولہ اکتوبرکوجب حکومت نے حلف لیادوسرے دن جنگلات ماحولیات کے وزیر جاوید رانا نے یقین دلایالوگوںکواب عمارتی لکڑی حاصل کرنے میں کسی بھی مشکل کاسامنا نہیں کرنا پڑیگا ۔وزیرمحترم نے یقین دہانی دی پھراپنی اپنی یقین دہانی کے بارے میں جانکاری حاصل نہیں کی کہ ضرور تمند کس عذاب اور مشکل سے گز ررہے ہیں آٹے میں نمک کے برابرضرور تمندوں کوعمارتی لکڑی فراہم کی گئی یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جموںو کشمیرکے جنگلوں سے نکالی جانے والی عمارتی لکڑی ملک کی مختلف ریاستوں مرکزی زیر انتظام علاقوں تک پہنچتی ہے ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہیں کارپوریشن کونفع کمانے کاحق ہے اگر پانی کھیت سے دھان گندم کی آگ رہی ہے مگر کمانے والے بھوکے رہے تواس کھیت کوآگ لگانابہترہے ۔ہمارے جنگل تیح تیغ ہورہے ہے اور یہاں کے ضرور تمندوں کو ملک کی مختلق ریاستوں مرکزی زیر انتظام علاقوں یابیرو ن ممالک سے منگا نے والی کی ڈی بوسیدہ لکڑی استعمال کرنے پرمجبورکیاجارہاہے ۔آشیانے تعمیرکرنے یارہائشی مکانوں کی مرمت کرنے والے اب مایوس ہوچکے ہیں کہ ادارہ ان کی مجبوری کوسنجیدگی سے نہیں لے رہاہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سرکار اور اداروں کوعوام کی فکر نہیں ہے بلکہ اپنے اقتدار کودوعام بخشنے ا ورسرکار سے شاباشی کے لئے افسران اپنی من مرضی کے مطابق جانکاری بھی فراہم کرتے ہے اور اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔










