جموں و کشمیر میں ایک گھنٹے کے اندر دو بار زلزلے کے جھٹکے، بارہمولہ رہا مرکز

جموں و کشمیر میں ایک گھنٹے کے اندر دو بار زلزلے کے جھٹکے، بارہمولہ رہا مرکز

زلزلہ کے دوران بجلی کرنٹ لنگے سے ایک خاتون لقمہ اجل ، درجنوں مکانات میں دراڑیں

سرینگر//جموں کشمیر میں منگل کی صبح 4.9شدت کے ایک کے بعد ایک زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ زلزلہ کے نتیجے میں لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا جبکہ سنبل بانڈی پورہ میں زلزلہ کے دوران ایک خاتون بجلی کا جھٹکا لگنے سے ایک خاتون کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک شخص زلزلہ کے دوران زخمی ہوا ہے ۔ اس بیچ معلوم ہوا ہے کہ زلزلہ کی وجہ سے مکانوں ، دکانوں اور دیگر ڈھانچے میں شگاف پڑگئے ہیں تاہم کسی بڑے واقعے کی کوئی خبر نہیں ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے بتایا کہ پہلا زلزلہ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 تھی۔ زلزلے کا مرکز جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں تھا اور اس کی گہرائی زمین سے 5 کلومیٹر نیچے تھی۔اس کے بعد دوسرا زلزلہ صبح 6:52 پر محسوس کیا گیا اور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.8 تھی۔ دوسرے زلزلے کا مرکز بھی بارہمولہ ضلع میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر نیچے تھی۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں صبح سویرے لوگوں نے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.9ریکٹر پیمانے پر ریکارڈ کی گئی ۔ محکمہ کے مطابق زلزلہ کا اثر زیادہ ضلع بارہمولہ میں دکھائی دیا جہاں پر مکانات میں تھر تراہٹ دیکھی گئی ۔ جبکہ سرینگرسمیت وادی کے تمام اضلاع میں زلزلہ کی شدت محسو س کی گئی ۔ اس کے ساتھ ہی دوسرے زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ زلزلہ کے جھٹکوں کے دوران سنبل بانڈی پورہ میں ایک خاتون کو بجلی کا کرنٹ لگا جس کے نتیجے میں وہ لقمہ اجل بن گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ سنبل میں ایک 35سالہ خاتون رفیقہ بیگم اہلیہ محمد مقبول بٹ ساکن اوڈینہ سنبل بانڈی پورہ زلزلہ کے دوران بجلی کرنٹ لگنے کے بعد بے ہوش ہوگئی اگرچہ اس کو فوری طو رپر ہسپتال پہنچایا گیا تاہم ٹروما ہسپتال پٹن میں اسے ڈاکٹروں نے مردہ قراردیا ۔ جبکہ ایک شخص زلزلہ کی وجہ سے زخمی ہوا۔ ہے ۔ زلزلے کیوں آتے ہیں؟زمین کے اندر 7 پلیٹیں ہیں جو مسلسل گردش کرتی رہتی ہیں۔ جس زون میں یہ پلیٹیں ٹکراتی ہیں اسے فالٹ لائن کہا جاتا ہے۔ پلیٹوں کے کونے بار بار ٹکرانے کی وجہ سے جھک جاتے ہیں۔ جب بہت زیادہ دباؤ بنتا ہے تو پلیٹیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ نیچے کی توانائی باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے اور خلل کے بعد زلزلہ آتا ہے۔زلزلے کے مرکز اور شدت سے کیا پتہ چلتا ہے؟زلزلے کا مرکز وہ جگہ ہوتی ہے جس کے نیچے پلیٹوں میں حرکت کی وجہ سے ارضیاتی توانائی خارج ہوتی ہے۔ اس جگہ پر زلزلے کے جھٹکے زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے کمپن کی فریکوئنسی بڑھتی ہے، اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے۔پھر بھی، اگر ریکٹر اسکیل پر 7 یا اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ آتا ہے، تو یہ جھٹکا ارد گرد کے 40 کلومیٹر کے دائرے میں مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ زلزلہ کی فریکوئنسی اوپر کی طرف ہے یا نیچے کی طرف۔ اگر کمپن کی فریکوئنسی زیادہ ہے تو کم رقبہ متاثر ہوگا۔زلزلے کی شدت کیسے ناپی جاتی ہے اور پیمائش کا پیمانہ کیا ہے؟زلزلوں کی پیمائش ریکٹر اسکیل سے کی جاتی ہے۔ اسے ریکٹر میگنیٹیوڈ ٹیسٹ اسکیل کہا جاتا ہے۔ زلزلوں کی پیمائش ریکٹر اسکیل پر 1 سے 9 تک کی جاتی ہے۔ زلزلے کی پیمائش اس کے مرکز یعنی مرکز سے کی جاتی ہے۔ زلزلے کے دوران زمین کے اندر سے خارج ہونے والی توانائی کی شدت کو اس سے ماپا جاتا ہے۔ یہ شدت زلزلے کی شدت کا تعین کرتی ہے۔