حساس مقامات پر اضافی فورسز دستے تعینات ، کئی مقامات پر گاڑیوں کی چیکنگ کا سلسلہ شروع
سرینگر//یوم آزادی کی تقریبات کو احسن اور پر امن طریقے سے منعقد کرانے کیلئے حفاظت کے سخت انتظامات کئے جارہے ہیں جبکہ ککرناگ انکاونٹر کے بعد یوم آزادی سے پہلے ہی شہر سرینگر بشمول لالچوک کے گردونواح میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ وادی کے دیگر حساس علاقوں میں بھی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ 15اگست کی تقریبات میں کوئی خلل نہ پڑے اور ہر جگہ امن وامان برقراررہے ۔ ادھر کئی جگہوں پر گاڑیوں، آٹو رکھشائوں کو روک کر تلاشی لینے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ دریں اثناء جموں شہر کو بھی تین دائروں والے حفاظتی حصار میں رکھا جارہا ہے اور سٹیڈیم کے ارد گرد ڈرونوں کے ذریعے نگرانی کا سلسلہ بھی تیز کردیا گیا ہے ۔ادھر گزشتہ روز آئی جی پی کشمیر نے سیکورٹی انتظامات اور تعیناتی کے منصوبوں کے بارے میں حکام سے رپورٹیں طلب کیں۔ملاقات میں کشمیر کے چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی جی پی کشمیر نے افسران کو خاص طور پر رات کے وقت چوکیوں میں اضافہ کرنے اور امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کے مطابق یوم آزادی کے سلسلے میں 15اگست کو شہرسرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ و اضلاع ہیڈ کوارٹروں پر ہر برس تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں فوج، پیرا ملٹری، پولیس اور سیول انتظامیہ پریڈ منعقد کئے جاتے ہیں اور جھنڈا لہرایا جاتا ہے ۔سیکورٹی کے لحاظ سے یوٹی سرکار کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جارہی ہے اور تقریبات کو احسن طریقے سے منعقدکرنے اور وادی میں امن و امان برقراررکھنے کی خاطر حفاظت کے سخت بندوبست کئے جارہے ہیں ۔ دریں اثناء ککر ناگ انکاونٹر کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کا از سر نو جائزہ لیا گیا اور اس میں مزید بہتری لائی گئی ہے ۔ ادھر شہر سرینگر کے مختلف علاقہ جات بشمول لالچوک میں اضافی نفری تعینات کی جارہی ہے ادھر لالچوک کے تواریخی گھنٹہ گھر کے ارد گرد پولیس ، و فورسز کے اہلکاروں کو پہلے سے ہی چاک و چوبند ہیں اور گھنٹہ گھر نزدیکی بیریکیڈ اور بکتر بند گاڑیاں رکھی گئی ہے ۔ ادھر وادی کے دیگر حساس علاقوں خاص کرجنوبی کشمیر کے ضلع کولگام، پلوامہ اور شوپیاں میں بھی فوج و فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے جارہے ہیں ۔ادھر اننت ناگ کے ضلع ہیڈ کوارٹر کی طرف جانے والے راستوں پر بھی حفاظتی دستے تعینات کئے جارہے ہیںجبکہ شمالی کشمیر کے حساس ترین علاقہ مانے جانے والے سوپور میں بھی فوج، فورسز اور پولیس کو چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امسال بھی حسب روایت وادی میں 15اگست کے سلسلے میں سب سے بڑی تقریب سرینگر میں منعقد ہوگی جہاں پر ایل جی منوج سنہا جھنڈا لہرائیں گے اور پریڈ پر سلامی لیں گے جبکہ دیگر ضلع ہیڈ کوارٹروں پر اپنے اپنے ترقیاتی کمشنر پریڈ پر سلامی لیں گے ۔ اس دوران ڈسٹرکٹ پولیس لائنز، ڈسٹرکٹ فوجی ہیڈ کوارٹروں کے علاوہ فورسز کیمپوں پر بھی چھوٹی موٹی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جہاں پر متعلقہ افسران ترنگا لہراکر سلامی لیں گے ۔ دریں اثناء یوم آزادی یعنی 15 اگست کے پیش نظر آئی جی پی کشمیر نے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ جہاں آئی جی پی کشمیر نے افسران کو ہدایات جاری کی ہیں۔جموں و کشمیر میں 15 اگست کے پیش نظر، کشمیر رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) نے ہفتہ کو سیکورٹی انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ میٹنگ میں آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے آنے والے یوم آزادی کی تقریبات اور ترنگا ریلی کے حوالے سے سیکورٹی کے حوالے سے جائزہ میٹنگ کی۔انہوں نے سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں کئی سینئر افسران موجود تھے۔ آئی جی پی کشمیر نے سیکورٹی انتظامات اور تعیناتی کے منصوبوں کے بارے میں حکام سے رپورٹیں طلب کیں۔ملاقات میں کشمیر کے چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی جی پی کشمیر نے افسران کو خاص طور پر رات کے وقت چوکیوں میں اضافہ کرنے اور امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی۔ سخت چوکسی اور چوکسی برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی۔










