ککرناگ انکائونٹر دو فوجی اہلکار اور ایک شہری سمیت 3ہلاک

’’دہشت گرد‘‘ ڈوڈہ سے آئے ہیں جن کی تعداد 2سے تین تک ہونے کا امکان ہے ۔ آئی جی پی کشمیر

سرینگر//ککر ناگ میں گزشتہ روز سے جاری تصادم آرائی میں دو فوجی اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ علاقے میں وقفے وقفے سے گولیاں کا تبادلہ جاری ہے ۔ ادھر انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تین سے چار دہشت گردوں کا ایک گروپ کوکرناگ کے جنگلاتی علاقے میں موجود ہے اور پولیس شہریوں کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے اتنے قریب کیسے تھے۔ وی کے بردی نے اتوار کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوکرناگ جنگل میں دہشت گردوں کی تعداد تین سے چار ہے۔ آئی جی پی نے کہا، “ہم شہریوں کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے اتنے قریب کیوں اور کیسے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ گروپ ڈوڈہ سے اس طرف گھس آیا ہے کیونکہ اننت ناگ اور ڈوڈہ کی سرحدیں جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو فوجی اور ایک عام شہری مارے گئے جب کہ ایک عام شہری کا علاج کیا جا رہا ہے۔ایک وسیع سرچ آپریشن جاری ہے۔ خطہ اور موسم ایک چیلنج ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکر ناگ علاقے کے دور افتادہ جنگلاتی علاقے میں ہفتہ کی شام دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ دو شہریوں اور چار فوجیوں سمیت چھ زخمی ہوئے۔جن میں سے ایک شہری زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا ۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ دہشت گرد موقع سے فرار نہ ہو سکیں۔ تاہم فی الحال فوج کہہ رہی ہے کہ فوجی زخمی ہیں۔پولیس نے بتایا کہ کوکرناگ کے اہلان گڈول علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ سیکورٹی فورسز کو قریب آتے دیکھ کر چھپے بیٹھے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔ فوجیوں نے فوراً چارج سنبھال لیا اور دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس سے انکاؤنٹر شروع ہوا۔ فائرنگ سے چھ فوجی زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر باہر نکال کر ہسپتال لے جایا گیا۔ ان میں سے دو فوجیوں کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔فوج کے مطابق فائرنگ کے دوران دو شہری زخمی بھی ہوئے۔ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا دونوں شہریوں کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق ہے۔ آپریشن میں جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، فوج کی 19 راشٹریہ رائفلز (آر آر) اور سی آر پی ایف کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔تصادم شروع ہوتے ہی اضافی سیکورٹی فورسز کو موقع پر بھیج دیا گیا ہے۔ پورے علاقے کو روشنیوں سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ گھنے جنگل کی وجہ سے سیکورٹی فورسز احتیاط سے کام لے رہی ہیں تاکہ مزید کوئی جانی نقصان نہ ہو۔دریں اثناء ککر ناگ میں گزشتہ روز سے جاری تصادم آرائی میں دو فوجی اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ علاقے میں وقفے وقفے سے گولیاں کا تبادلہ جاری ہے ۔ ادھر انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تین سے چار دہشت گردوں کا ایک گروپ کوکرناگ کے جنگلاتی علاقے میں موجود ہے اور پولیس شہریوں کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے اتنے قریب کیسے تھے۔ وی کے بردی نے اتوار کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوکرناگ جنگل میں دہشت گردوں کی تعداد تین سے چار ہے۔