وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤ ثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔وزیراعظم شہباز شریف نے قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے مخاطب ہوکر خوشی ہو رہی ہے، ایس سی او کی چیئر کی حیثیت سے قازقستان نے بہترین کردار ادا کیا، آئندہ سال 25-2024کے لیے صدر شی جن پھنگ کو ایس سی او کی چیئرمین شپ ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کے عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے، ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں، ہمیں مل کر ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی طور پر بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن سلامتی کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار اہم ہے، خطےکے روشن مستقبل کے لیے جغرافیائی، سیاسی محاذ آرائی سے خودکو آزاد کرنا ہوگا، ایس سی او ترقیاتی منصوبوں کے لیے متبادل فنڈنگ کا طریقہ کار وضع کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے تجارت کی اہم گزرگاہ ہے، سی پیک کے ذریعے ایس سی او کے علاقائی رابطے کے وژن کے تحت ترقی و خوشحالی کی منزل کے حصول کی جانب گامزن ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہوگا، افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی طور پر بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں، افغانستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی جائے، غزہ میں انسانیت سوز مظالم جاری ہیں ،ایس سی او فلسطین کی صورتحال پر آواز اٹھائے، پاکستان ایس سی او کو متحرک تنظیم بنانے اور اہداف کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرےگا۔انہوں نے کہا کہ خودمختاری ، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے بنیادی حق خود ارادیت کے عالمی طورپر تسلیم شدہ اصولوں کے احترام کی ضرورت ہے، اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، اسلامو فوبیا اور لسانیت کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔
اسلاموفوبیاکا مسئلہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے قابل عمل فریم ورک موجود ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں تصفیہ طلب مسائل کے حل یقینی بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔










