گھروں میں گھس کر پہنچارہے ہیںنقصان ، لوگ ہجرت کرنے پر مجبور
سرینگر//شمالی کشمیر کے لولاب کپوارہ میں بندروں نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے جبکہ بندر گھروں میں گھس کر لوگوں کی چیزیں اُٹھاکر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ میوہ درختوں کو توڑ کر میوہ کو نقصان پہنچارہے ہیں اورلوگوں کے گھروں میں گھس کر سامان کو تہس نہس کرتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں بندروں اور ریچھوں نے لوگوں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دیں ہیں ۔ ضلع کپوارہ کے دیور لولاب کے نائیک محلہ اور ڈار محلہ اور دیگر علاقوں میں بندروں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بندر گھر میں جو گھس کر جو بھی چیز ہو گا اس کو ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ یہ بندر ان کے کھڑی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وی او آئی نمائندے نے بتایا کہ بندر اور میوہ باغات میں گھس کر میوہ کھانے کے ساتھ ساتھ میوہ درختوں کونقصان پہنچارہے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ جہاں بندر درختوں پر چڑھ کر میوہ کھاتے ہیں وہیں پر ریچھ درختوں کی ٹہنیاں توڑ کر میوہ کھاتے ہیں اور درختوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ سال بھر کی محنت کے بعد جب درختوں سے پھل توڑنے کا وقت قریب آتا ہے تو بندروں اور ریچھ ان باغات کو اپنے قبضے لیتے ہیں۔ لوگوںنے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف کا کہیں اتہ پتہ نہیں ہے اور نا ہی وہ ان بے لگام بندروں کو قابومیں کرنے کیلئے کوئی اقدام اُٹھارہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ بندروں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں گھس کر وہاں موجود سامان کو تہس نہس کرکے جو چیز پسند آئے اس کو اپنے ساتھ اُٹھاکے لے جاتے ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق بندرو ں اور دیگر جنگلی جانوروں کی ہڑبونگ کی وجہ سے لوگ اب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ وہ میوہ باغات میں پہرہ دینے سے بھی کتراتے ہیں کیوں کہ ایک یا دو اشخاص کا میوہ باغات میں پہرہ دینا کسی خطرے سے خالی نہیں اور اس سے جان کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور اکثر گائوں والے آٹھ دس افراد پر مشتمل ٹولیوں میں ٹین بجابجاکر جنگلی جانوروں کو میوہ باغات سے دور رکھتے ہیں تاہم رات کے دوران میوہ باغات کی رکھوالی کرنا ممکن نہیں ہے ۔لوگوں نے محکمہ وائلڈ لائف کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھ کر بندروں اور ریچھوں کو قابل کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔










