بھارت آندھرا پردیش میں خفیہ جوہری آبدوز بیس تعمیر کررہا ہے/حکام
سرینگر // ہند چین سرحد کے قریب چین کی بڑھتی سرگرمیوں کے بعد بھارت کی جانب سے آندھرا پردیش میں خفیہ جوہری آبدوز بیس تعمیر کئے جا رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی بحریہ کی موجودگی کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت ااندھرا پردیش میں خفیہ جوہری آبدوز بیس تعمیر کررہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بھارت آندھرا پردیش کے رامبیلی گائوں میں آئی این ایسورشا نامی ایک بڑے زیر زمین جوہری آبدوز اڈے کی تعمیر کر رہا ہے، جس کا رقبہ 20 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی لاگت تقریباً 3.75 بلین ڈالر ہے۔ بیس میں کم از کم 10 جوہری آبدوزیں ہوں گی، جن میں اریہنت کلاس اور آنے والی S5 شامل ہیں، اور یہ سال 2025-26تک کام کرے گی۔ آئی این ایس ورشا اسٹریٹجک طور پر بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کے قریب واقع ہے اور اس میں ایسی سرنگیں ہیں جو آبدوزوں کو بغیر سرفیس کیے داخل ہونے اور باہر نکلنے کی اجازت دیتی ہیں اور خفیہ تعیناتی کو یقینی بناتی ہیں۔ یہ اڈہ جوہری اابدوزوں کیلئے خصوصی بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات فراہم کرے گا، جس سے وشاکھاپٹنم میں تجارتی بندرگاہ کی کارروائیوں میں رکاوٹیں کم ہوں گی۔ آئی این ایس ورشا کا مقصد ہندوستان کی قابل اعتماد جوہری ڈیٹرنس صلاحیتوں کو تقویت دینا اور خلیج بنگال میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، جو عالمی سطح پر سب سے بڑی خلیج ہے۔ یہ اڈہ ہندوستان کی بحری سلامتی میں اضافہ کرے گا، قزاقی مخالف کارروائیوں میں سہولت فراہم کرے گا، اور بحر ہند میں مواصلات کی اہم سمندری لائنوں کی حفاظت کرے گا۔










